• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 61757

    عنوان: سوال یہ ہے کہ میں گھر میں جہاں نماز پڑھتاہوں وہاں ڈریسنگ ٹیبل ہے جس کے آئینے میں صاف عکس دکھائی دیتاہے ، گھر میں اور کوئی مناسب جگہ نہیں ہے نماز کے لیے۔ مجھے تفصیلاً بتادیں کہ کیا شیشے کے سامنے نماز پڑھ سکتاہوں جس میں اپنا عکس صاف نظر آتاہو؟ میں بہت پریشان ہوں کہ میری نماز پہ کوئی فرق نہ پڑتاہو ؟

    سوال: سوال یہ ہے کہ میں گھر میں جہاں نماز پڑھتاہوں وہاں ڈریسنگ ٹیبل ہے جس کے آئینے میں صاف عکس دکھائی دیتاہے ، گھر میں اور کوئی مناسب جگہ نہیں ہے نماز کے لیے۔ مجھے تفصیلاً بتادیں کہ کیا شیشے کے سامنے نماز پڑھ سکتاہوں جس میں اپنا عکس صاف نظر آتاہو؟ میں بہت پریشان ہوں کہ میری نماز پہ کوئی فرق نہ پڑتاہو ؟

    جواب نمبر: 61757

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 807-807/Sd=1/1437-U آئینے کے سامنے نماز پڑھنا جس میں عکس نظر آئے نماز کے خشوع میں مخل ہے، اس میں دھیان پوری طرح نماز کی طرف نہیں رہ پاتا اور ہر وہ چیز جس سے نماز کے خشوع میں خلل واقع ہو، مکروہ ہے، لہذا آئینے کے سامنے نماز پڑھنے سے اگر خشوع میں خلل ہوگا تو نماز مکروہ ہوگی، اس لیے صورتِ مسئولہ میں اگر نماز پڑھنے کے لیے کوئی دوسری مناسب جگہ نہیں ہے، تو ایسی تدبیر کر لی جائے کے آئینے میں عکس نظر نہ آئے، تاکہ خشوع میں خلل واقع نہ ہو، مثلا: ڈریسنگ ٹیبل پر کوئی کپڑا ڈال لیا جائے اور نماز میں نظریں نیچے رکھی جائیں۔ واضح رہے کہ ایسی جگہ نماز پڑھنے کی کراہت تصویر کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ عکس خشوع کے لیے مخل اور دل کی مشغولی کا باعث ہے، لہذا عکس نظر نہ آنے کی تدبیر کرنے کی صورت میں بلا کراہت نماز صحیح ہو جائے گی۔ قال ابن عابدین: بقي في المکروہات اشیاء آخر۔۔۔ منہا الصلاة بحضرة ما یشغل البال و یخل بالخشوع۔۔۔۔ (رد المحتار: ۱/ ۶۵۴، کتاب الصلاة، باب مایفسد الصلاة وما یکرہ فیہا، ط: دار الفکر، بیروت، محمودیہ: ۶/ ۶۷۸، باب مایفسد الصلاة وما یکرہ فیہا، بعنوان: آئنہ سامنے ہو تو نماز کا کیا حکم ہے؟، ط: دار الافتاء جامعہ فاروقیہ، کراچی)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند