• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 61688

    عنوان: اگر کسی نے نماز میں پڑھے جانے والے اذکار , ادعیہ اور تسبیحات میں فاحش غلطی کی۔ مثلا لا نکفرک کی جگہ نکفرک پڑھا تو کیا نماز فاسد ہو جائے گی؟ الغرض اذکار وغیرہا کو فاحش غلطی سے پڑھنے کا حکم مفسد صلاہ ہونے میں مثل تلاوت قرآن کے ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا

    سوال: اگر کسی نے نماز میں پڑھے جانے والے اذکار , ادعیہ اور تسبیحات میں فاحش غلطی کی۔ مثلا لا نکفرک کی جگہ نکفرک پڑھا تو کیا نماز فاسد ہو جائے گی؟ الغرض اذکار وغیرہا کو فاحش غلطی سے پڑھنے کا حکم مفسد صلاہ ہونے میں مثل تلاوت قرآن کے ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا

    جواب نمبر: 61688

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1357-1331/H=1/1437-U نماز میں فاحش غلطی جس کو اعتقاد کرنے سے کفر لازم آتا ہو، نماز فاسد ہوجائے گی، خوہ وہ غلطی قراء ت میں ہو یا اذکار وتسبیحات میں، مسئولہ صورت میں ”لانکفرک“ کی جگہ ”نکفرک“ ”لا“ کے بغیر پڑھنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ الأصل في زلة القارئ أن الکلمة التي نطق بہا القارئ، إن غیرت المعنی تغیرًا فاحشًا؛ یحیث یکون اعتقاد ہذا المعنی کفرًا، فإن الصلاة تفسد، سواء کان التغییر في القراء ة أو لم یکن؛ لأنہ إذا تعمدہ یکون کفرًا فیکون في حال الخطأ متکلِّمًا بکلام الکفار، وہو مفسدٌ، کما لو تکلم بکلام الناس ساہیًا مما لیس بکفر، فکیف إذا تکل بما ہو کفرٌ․ (الفقہ الحنفي في ثوبہ الجدید: ۱/ ۲۵۵- ۴۵۶، ط: دار الإیمان سہارنفور، یوفی، الہند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند