• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 61588

    عنوان: مسجد میں اذان دینے کاکیاحکم ہے ؟ کیایہ مکروہ ہے کہ نہیں؟

    سوال: مسجد میں اذان دینے کاکیاحکم ہے ؟ کیایہ مکروہ ہے کہ نہیں؟

    جواب نمبر: 61588

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 865-830/Sn=12/1436-U مسجد کے اندر اذان دینا مکروہ تنزیہی یعنی خلافِ اولی ہے؛ اس لیے اگر خارج مسجد مثلاً امام صاحب کے حجرے میں مائک رکھنے کی جگہ ہو تو مسجد میں اذان دینے کے بہ جائے اسی کمرے سے اذان دینا زیادہ بہتر ہے، فتاوی عالمگیری میں ہے: وینبغي أن یوٴذّن علی المئذنة أو خارج المسجد ولا یوٴذن في المسجد کذا في فتاوی قاضي خان (ہندیہ: ۱/۵۵، الفصل الثاني في کلمات الأذان، ط: زکریا) اور امداد الفتاوی میں ہے: (جمعہ کی اذانِ ثانی کے علاوہ) ”بقیہ اذانیں مسجد میں کہنا کراہت تنزیہیہ یعنی خلاف اولیٰ ہونے سے خالی نہیں ہے اور علت غالباً یہ ہے کہ اذان میں رفع صوت زائد اور صیاح ہوتا ہے اور ”صیاح“ خود ملحق بالکلام ہے، گو صیاح بالذکر ہی ہو، نیز ”صیاح“ ادب مسجد کے بھی خلاف ہے“۔ (امداد الفتاوی: ۱/۷۰۳، ط: زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند