• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 61380

    عنوان: ایک صاحب کا فرمانا یہ ہے کہ امام مسجد مقامی ہونا چاہیے دوسری جگہ کا نہ ہوکیونکہ اسکے حالات کا ہمکو علم نہں ہے اور انکا یہ بھی کہنا ہے کہ مسجد کے ایک مصلہ پر دوسرا نہں بچھانا چاہے جس طرح مسجد میں صف بچھی ہے اسپر کوی الگ سے ایک جانماز بچھا لیتا ہے اسپر بھی انکا اعتراض ہے

    سوال: ایک صاحب کا فرمانا یہ ہے کہ امام مسجد مقامی ہونا چاہیے دوسری جگہ کا نہ ہوکیونکہ اسکے حالات کا ہمکو علم نہں ہے اور انکا یہ بھی کہنا ہے کہ مسجد کے ایک مصلہ پر دوسرا نہں بچھانا چاہے جس طرح مسجد میں صف بچھی ہے اسپر کوی الگ سے ایک جانماز بچھا لیتا ہے اسپر بھی انکا اعتراض ہے

    جواب نمبر: 61380

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1115-1115/M=11/1436-U اصل یہ ہے کہ امام ایسا شخص ہونا چاہیے جو صحیح العقیدہ ہو، قرآن صحیح پڑھنا جانتا ہو، طہارت ونماز کے ضروری مسائل سے واقف ہو، متبع سنت اور متقی پرہیزگار ہو، مقامی ہونا کوئی شرط نہیں ہے اگر غیرمقامی شخص کے اندر مذکورہ اوصاف موجود ہیں تو اس کو بھی امام بنایا جاسکتا ہے اور جس شخص میں مطلوبہ اوصاف جتنے زیادہ ہوں گے وہ شخص اتنا ہی امامت کا اہل ہوگا، ہاں اگر مقامی شخص کے اندر امامت کی اہلیت موجود ہے اور مطلوبہ اوصاف سے بھی متصف ہے اور حالات ومصلحت کے پیش نظر کمیٹی والے یا متولی مناسب سمجھتے ہیں کہ مقامی امام کا انتخاب کیا جائے توایسی صورت حال میں مقامی امام کو ترجیح دی جاسکتی ہے، مسجد میں صف بچھی ہوئی ہو تو اس پر دوسرا مصلّی بچھانے کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں؛ لیکن اگر کوئی اس پر اپنا مصلی بچھا کر نماز پڑھتا ہے تو دوسرے کو اس پر اعتراض کی ضرورت نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند