• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 61362

    عنوان: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر مسبوق سہواً امام کے ساتھ ایک طرف سلام پھیردے تو کیا حکم ہے ؟ امام کے سلام کے ساتھ متصلاً یا منفصلاً سلام پھیرنے میں کوئی فرق ہے یا بہر صورت ایک حکم ہوگا؟اللہ پاک آپ کو اجر جزیل عطا فرمائے ۔آمین۔

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر مسبوق سہواً امام کے ساتھ ایک طرف سلام پھیردے تو کیا حکم ہے ؟ امام کے سلام کے ساتھ متصلاً یا منفصلاً سلام پھیرنے میں کوئی فرق ہے یا بہر صورت ایک حکم ہوگا؟اللہ پاک آپ کو اجر جزیل عطا فرمائے ۔آمین۔

    جواب نمبر: 61362

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1023-995/N=01/1437-U اگر مسبوق نے امام سے پہلے لفظ: السلامکہہ دیا یا امام کے ساتھ ساتھ کہا تو چوں کہ وہ اس وقت مقتدی ہے؛ اس لیے سہو کی صورت میں اس سلام کی وجہ سے اس پر کوئی سجدہ سہو واجب نہ ہوگا، اور اگر اس نے امام کے بعد سلام پھیرا، یعنی: امام نے اپنا السلاممسبوق سے پہلے مکمل کرلیا تو چو ں کہ اصح قول کے مطابق پہلے سلام میں صرف لفظ: السلامسے اقتدا ختم ہوجاتی ہے (درمختار مع شامی۲: ۱۶۲، ۱۶۳ مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)؛ اس لیے اس صورت میں مسبوق نے منفرد ہونے کی حالت میں سلام پھیرا؛ لہٰذا سہو کی صورت میں اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا۔ اور اگر مسبوق نے جان بوجھ کرسلام پھیرا، یعنی: یہ جانتے ہوئے سلام پھیردیا کہ ابھی میری ایک یا اس سے زائد رکعتیں باقی ہیں تو چوں کہ یہ درمیان نماز میں جان بوجھ کر سلام پھیرنا ہے؛ اس لیے اس سلام کی وجہ سے اس کی نماز فاسد ہوجائے گی خواہ اس نے امام سے پہلے سلام پھیرا ہو یا امام کے ساتھ ساتھ یا امام کے بعد کذا في فتح القدیر (کتاب الصلاة، باب الحدث فی الصلاة، فصل فی المسبوق ۱: ۲۷۷ط المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)، و الدر والرد (آخر باب الإمامة ۲: ۳۵۰، ۵۴۶، ۵۴۷ط مکتبة زکریا دیوبند)ومجمع الأنھر (کتاب الصلاة، باب سجود السھو۱: ۲۲۲ ط دار الکتب العلمیة بیروت) وتبیین الحقائق (۱: ۱۹۵ط مکتبة إمدادیة، ملتان، باکستان) والبحر الرائق) (کتاب الصلاة، باب سجود السھو ۲: ۱۷۶، ۱۷۷ط مکتبة زکریا دیوبند) وشرح المنیة (فصل في سجود السھو ص ۴۶۵ط المکتبة الأشرفیة دیوبند)وإمداد الفتاح (کتاب الصلاة، باب سجود السھو ص ۴۸۴ ط مکتبة الاتحاد دیوبند)والفتاوی الخانیة (علی ھامش الھندیة، فصل فیما یوجب السھو وما لا یوجب السھو۱: ۱۲۳ط مکتبة زکریا دیوبند)وغیرھا من کتب الفقہ والفتاوی الأخری۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند