• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 61225

    عنوان: میری حالت ایسی ہے کہ میں ایک یا دو منٹ سے زیادہ ایک ہی پہلوسے نہیں بیٹھ سکتا، میرے جوڑ جام ہوجاتے ہیں ، میراعلاج جاری ہے، زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا میرے لیے نا ممکن ہے تو کیا میں کرسی ، اسٹول یا موڑا پر بیٹھ کر نماز ادا کرسکتاہوں یا نہیں؟

    سوال: میری حالت ایسی ہے کہ میں ایک یا دو منٹ سے زیادہ ایک ہی پہلوسے نہیں بیٹھ سکتا، میرے جوڑ جام ہوجاتے ہیں ، میراعلاج جاری ہے، زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا میرے لیے نا ممکن ہے تو کیا میں کرسی ، اسٹول یا موڑا پر بیٹھ کر نماز ادا کرسکتاہوں یا نہیں؟ کرسی پر بیٹھ کر میں تھوڑی تھوڑی دیر میں پہلو بدل لیتاہوں، قیام ،رکوع اور قومہ میں امام کے ساتھ ساتھ ادا کرتاہوں، باقی کے ارکان کرسی پر بیٹھ کر ادا کرتاہوں، اگر ایسا کرنا ناجائز ہے تو پھر میں کس طرح نماز ادا کروں؟ براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 61225

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1207-1207/M=1/1437-U کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا کس حالت میں جائیز ہے اور کب ناجائز ہے؟ اس بارے میں ایک مفصل فتوی سابق میں دار الافتاء دارالعلوم دیوبند کی جانب سے جاری ہوا تھا، اس کی ایک کاپی منسلک کی جارہی اس کو پڑھ کر اپنے احوال کو منطبق کرکے اس کے مطابق عمل کریں۔ ----------------------------------- کرسی پر نماز کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ ہمارے شہر کی مساجد میں معذور افراد کے لیے (جیسے پیر میں تکلیف، گھٹنوں میں درد، کمر درد یا کھڑے نہ ہوپانا، یا سجدہ زمین پر نہ کرپانا یا کوئی اور عذر ہو جس سے نماز کھڑے ہوکر ادا نہیں کرسکتے) مسجد کی صف میں دونوں کنارے پر کرسیاں رکھی جاتی ہیں تاکہ معذور افراد اس پر نماز ادا کرسکیں، ایسے ہی ہماری بھی مسجد میں معذور افراد کے لیے کرسی کا انتظام ہے، مگر وہ کرسیاں ایک خاص ڈیزائن کے ساتھ بنی ہوئی ہیں، بعض افراد نے اعتراض کیا ہے کہ ایسی کرسی پر نماز کا پڑھنا درست نہیں ہے۔ جواب طلب امر یہ ہے کہ اس خاص ڈیزائن والی کرسی پر مذکورہ معذور افراد کی نماز درست ہوسکتی ہے یا نہیں؟ یا پلاسٹک والی کرسی پر نماز ادا کی جائے ۔ یاد رہے کہ خاص ڈیزائن والی کرسی اِسٹیل کی بنی ہوئی ہے، مزید معلومات کے لیے کرسی کی تصویر نماز ادا کرنے کی حالت کی بھیجی جارہی ہے تاکہ نماز کی ہیئت سمجھنے میں دشواری نہ ہو، جس میں تصویر نمبر ایک کی حالت سجدہ کی ہے جس میں مکمل سجدہ کرسی پر ہے اور تصویر نمبر دو کی حالت بھی سجدہ کی ہے جس میں اشارتاً سجدہ کیا جارہا ہے اور تصویر نمبر تین کی حالت رکوع کی ہے جس میں رکوع کو ادا کرتے ہوئے دکھایا ہے، ایک رکوع کی شکل گھٹنے پر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ایک رکوع کی لکڑی پر ہے دونوں میں سے کونسی شکل درست ہے، آپ حضرات سے درخواست ہے کہ تصویر میں خاص شکل والی کرسی پر نماز کا ادا کرنا درست ہے یا نہیں جو کہ اسٹیل کی ہے اور پلاسٹک والی کرسی پر نماز ادا کرنے کا کیا حکم؟ نماز اداہوجائے گی یا نہیں، یعنی رکوع، سجدہ، وغیرہ کا کیا طریقہ ہے اور تصویر میں جو سجدہ اور رکوع کی حالت دکھائی گئی ہے اس حالت میں نماز ادا ہوجائے گی یا نہیں؟ قرآن واحادیث کی روشنی میں اور فقہائے کرام کے ارشادات کے مطابق جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ومشکور ہوں۔ آفاق احمد خان کوپر کھیرنہ نوی ممبئی 9320033837 فتوی: 723-223/D الجواب وباللہ التوفیق: قیام اور سجدہ پر قادر شخص کے لیے نماز میں قیام فرض اور نماز کا رکن ہے، اگر قیام اور سجدہ پر قدرت ہوتے ہوئے فرض نماز بیٹھ کر ادا کی جائے تو رکن کے فوت ہونے کی وجہ سے نماز نہیں ہوگی، نماز کا اعادہ ضروری ہوگا، ”من فرائضہا القیام في فرض لقادر علیہ وعلی السجود“ (درمختار مع الشامی زکریا: ۲/۱۳۲) یہاں تک کہ اگر نماز میں قیام کے کچھ حصے پر قدرت ہے مکمل طور پر قیام پر قادر نہیں تو جتنی دیر قیام کرسکتا ہے خواہ کسی عصا یا دیوار پر ٹیک لگاکر ہی کیوں نہ ہو اتنی دیر قیام کرنا فرض ہوگا، اگر اتنی دیر قیام نہ کیا یا ٹیک لگاکر کھڑا نہ ہوا اور بیٹھ کر نماز مکمل کی تو نماز نہیں ہوگی ”وإن قدر علی بعض القیام ولو متکئا علی عصا أو حائط قام لزوما بقدر ما یقدر ولو قدر آیة أو تکبیرة علی المذہب لأن البعض معتبر بالکل“ (در مختار مع الشامی زکریا: ۲/۲۶۷) اگر کوئی شخص قیام پر قادر ہے مگر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے میں رکوع سجدہ یا صرف سجدہ پر قادر نہیں تو اس کے لیے بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز ہے، وہ اشارہ سے رکوع وسجدہ ادا کرے، اس صورت میں کھڑے ہوکر نماز ادا کرنے کے مقابلے میں بیٹھ کر اشارہ سے نماز ادا کرنا افضل اور بہتر ہے: ”وإن تعذرا لیس تعذرہما شرطا بل تعذر السجود کاف لا القیام أومأ قاعدا لأن رکنیة القیام للتوصل إلی السجود فلا یجب دونہ“ (در مختار مع الشامی زکریا: ۲/۵۶۷) فتاوی عالمگیری : ۱/۱۳۶ میں بھی اسی کے مثل ہے۔ جو اعذار قیام کو ساقط کرنے الے ہیں وہ دو قسم کے ہیں: (۱) حقیقی: یعنی اس طرح معذور ہو کہ قیام اس کے لیے ممکن نہ ہو۔ (۲) حکمی: یعنی اس درجہ معذور نہ ہو کہ قیام پر قدرت ہی نہ ہو بلکہ قدرت تو ہو مگر گرجانے کا اندیشہ ہو یا ایسی کمزور حالت ہو جو عند الشرع عذر میں شامل ہے، مثلاً بیماری ہے اور ماہر مسلم تجربہ کار ڈاکٹر نے کہا ہو کہ کھڑے ہونے میں بیماری میں اضافہ ہوگا یا بیماری دیر سے صحیح ہوگی، یا کھڑے ہونے میں ناقابل برداشت درد ہوتا ہو، ان صورتوں میں بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز ہے: ”من تعذر علیہ القیام لمرض حقیقی وحدہ أن یلحقہ بالقیام ضرر وفی البحر أراد بالتعذر التعذر الحقیقي بحیث لو قام سقط أو حکمی، بأن خاف أي غلب علی ظنہ بتجربة سابقة أو إخبار طبیب مسلم حاذق زیادتہ أو بطء برء ہ بقیامہ أو دوران رأسہ أو وجد لقیامہ ألمًا شدیدًا صلی قاعدًا“ (در مع الرد زکریا: ۲/۵۶۵) اگر غیرمعمولی درد نہ ہو بلکہ ہلکی اور قابل برداشت تکلیف کا سامنا ہو تو یہ عند الشرع عذر نہیں، اس صورت میں بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز نہیں: ”وإن لم یکن کذلک (أی بما ذُکر) ولکن یلحقہ نوع مشقة لا یجوز ترک القیام“ (تاتارخانیہ زکریا: ۲/۶۶۷) جو شخص قیام پر قادر نہیں؛ لیکن زمین پر بیٹھ کر سجدہ کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے تو اس کو زمین پر بیٹھ کر سجدہ کے ساتھ نماز ادا کرنا ضروری ہے، زمین پر سجدہ نہ کرتے ہوئے کرسی پر یا زمین پر اشارہ سے سجدہ کرنا جائز نہیں: ”وإن عجز عن القیام وقدر علی القعود؛ فإنہ یصلی المکتوبة قاعدًا برکوع وسجود ولا یجزیہ غیر ذلک“ (تاتارخانیہ زکریا: ۲/۶۶۷) اگر رکوع سجدہ پر قدرت نہیں اور زمین پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز ادا کرسکتا ہے تو تشہد ہی کی حالت پر بیٹھنا ضروری نہیں بلکہ جس ہیئت پر بھی خواہ تورک (عورت کے تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ) کی حالت پر یا آلتی پالتی مارکر بیٹھنا سہل وممکن ہو اس ہیئت کو اختیار کرکے زمین ہی پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز ادا کی جائے، کرسیوں کو اختیار نہ کیا جائے؛ کیوں کہ شریعت نے ایسے معذورین کو زمین پر بیٹھنے کے سلسلے میں مکمل رعایت دی ہے کہ جس ہیئت میں بھی ممکن ہو بیٹھ کر نماز ادا کریں: ”من تعذر علیہ القیام لمرض ... أو خاف زیادتہ... أو وجد لقیامہ ألما شدیدا صلی قاعدا کیف شاء “ (در مختار مع الشامی زکریا: ۲/۵۶۶) اس صورت میں بلاضرورت کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرنا بچند وجوہ کراہت سے خالی نہیں۔ (۱) زمین پر بیٹھ کر ادا کرنا مسنون طریقہ ہے، اسی پر صحابہٴ کرام اور بعد کے لوگوں کا عمل رہا ہے، نوے ۹۰کی دہائی سے قبل تک کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا رواج نہیں تھا، نہ ہی خیرالقرون سے اس طرح کی نظیر ملتی ہے۔ (۲) کرسیوں کے بلاضرورت استعمال سے صفوں میں بہت خلل ہوتا ہے، حالانکہ اتصال صفوف کی حدیث میں بہت تاکید آئی ہے: ”قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: راصّوا صفوفکم وقاربوا بینہا وحاذوا بالأعناق فوالذی نفس محمد بیدہ إنی لأری الشیاطین تدخل من خلل الصف کأنہا الخذف“ (نسائی:۱/۱۳۱) (۳) بلا ضرورت کرسیوں کو مساجد میں لانے سے اغیار کی عبادت گاہوں سے مشابہت ہوتی ہے اور دینی امور میں ہم کو غیروں کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔ (۴) نماز، تواضع وانکساری سے عبارت ہے اور بلاضرورت کرسی پر بیٹھ کر ادا کرنے کے مقابلے میں زمین پر ادا کرنے میں یہ انکساری بدرجہٴ اتم پائی جاتی ہے۔ (۵) نماز میں زمین سے قرب ایک مطلوب شی ہے جو کرسیوں پر ادا کرنے میں مفقود ہے۔ البتہ اگر زمین پر کسی بھی ہیئت میں بیٹھ کر نماز ادا کرنا دشوار ہو جائے تو پھر کرسیوں پر ضرورت کی وجہ سے نماز ادا کی جاسکتی ہے؛ لیکن اگر زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کی قدرت ہوگی تو پھر کرسی پر نماز ادا کرنا جائز نہیں ہوگا۔ بہرحال جس صورت میں ضرورةً کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس میں بھی مصلی کو چاہیے کہ سجدے کے وقت اشارہ پر اکتفا کرے، جہاں تک کرسی کے کسی حصے (مثلاً: اس پر لگی لکڑی) پر سجدہ کرنے کی بات ہے تو اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ: بحالت معذوری کسی اونچی چیز پر سجدہ کرنے کے سلسلے میں روایات مختلف آئی ہیں، چناں چہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صحابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، وہ صحابی معذوری کی وجہ سے نماز میں ایک تکیہ پر سجدہ کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ”اگر زمین پر سجدہ کرنا تمھارے بس میں نہ ہو تو اشارے سے نماز ادا کرو اور سجدہ میں رکوع کے مقابلے میں زیادہ جھکو“ رواہ البزار، ورجالہ رجال الصحیح (إعلاء السنن: ۷/۱۷۸) دوسری روایت ہے کہ ام الموٴمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا جب بیمار ہوئیں تو ان کے سامنے تکیہ رکھ دیا گیا تھا اس پر وہ سجدہ کرتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو اس پر نکیر نہیں فرمائی، اور آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی عمل کو دیکھ کر سکوت اختیار کرنا اس کے اِذن کی دلیل ہے۔ علامہ شامی نے دونوں روایتوں میں یہ تطبیق دی ہے کہ کراہت اس صورت میں ہے جب آدمی دورانِ نماز کوئی چیز اٹھاکر اس پر سجدہ کرے اگر زمین میں پہلے سے کوئی چیز نصب کردی گئی ہو جس پر مصلی سجدہ کرے تو یہ بلاکراہت جائز ہے۔ ”أقول: ہذا محمول علی ما إذا کان یحمل إلی وجہہ شیئا یسجد علیہ ، بخلاف ما إذا کان موضوعا علی الأرض وقال بعد أسطر: بإن مفاد ہذہ المقابلة والاستدلال عدم الکراہة فی الموضوع المرتفع“ (شامي: ۲/۵۶۸) علامہ چلپی نے بھی کراہت کو شکل اولیٰ پر محمول کیا ہے (حاشیة الشلبي علی التبیین: ۱/۲۰۰، ط: پاکستان) فتاویٰ عالمگیری میں بھی یہی تطبیق منقول ہے۔ (ہندیہ: ۱/۱۳۶، ط: زکریا) مذکورہ بالا عبارت کا حاصل یہی ہے کہ کسی نصب شدہ اونچی چیز پر سجدہ کرنا، یا بغیر کچھ رکھے ہوئے سجدہ کے لیے صرف اشارہ کرنا دونوں طرح جائز ہے، مگر مذکورہ ٹیبل والی کرسی پر سجدہ، حقیقی سجدہ نہیں ہوگا بلکہ وہ بھی اشارہ ہی ہوگا، مذکورہ کرسی پر بیٹھ کر اگر کوئی شخص نماز پڑھائے گا تو اس کے پیچھے رکوع وسجدہ کرنے والوں کی نماز نہیں ہوگی، علامہ شامی لکھتے ہیں: ”إن کان الموضوع مما یصح السجود علیہ کحجر مثلا ولم یزد ارتفاعہ علی قدر لبنة أو لبنتین فہو سجود حقیقی فیکون راکعا ساجدا وإن لم یکن الموضوع کذلک یکون مومئا فلا یصح اقتداء القائم بہ“ (شامی زکریا: ۲/۵۶۹) لیکن نبی کریم علیہ السلام اور دیگر صحابہٴ کرام کے منع کرنے کی وجہ سے اس کا (یعنی موضوع مرتفع پر سجدہ کرنا) غیر اولیٰ ہونا معلوم ہوتا ہے۔ نیز ایک خرابی یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کو جو عام کرسی پر نماز ادا کررہے ہوں، اپنی نماز میں کمی کا شبہ ہو گا کہ ہم نے کسی چیز پر سجدہ نہیں کیا۔ حکیم الامت حضرت تھانوی قدس سرہ نے بھی اس کو غیراولیٰ کہا ہے: ”سجدہ کرنے کے لیے تکیہ وغیرہ کوئی اونچی چیز رکھ لینا اور اس پر سجدہ کرنا بہتر نہیں، جب سجدہ کی قدرت نہ ہو تو بس اشارہ کرلیا جائے تکیہ کے اوپر سجدہ کرنے کی ضرورت نہیں“۔ (بہشتی زیور: ۲/۴۵، بیمار کی نماز کا بیان) اب اختصار کے ساتھ جواب کا ماحصل ذیل میں پیش کیا جاتا ہے: (۱) جو شخص قیام پر قادر نہ ہو لیکن کسی بھی ہیئت پر زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے تو اس کو زمین ہی پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کے ساتھ نماز ادا کرنا ضروری ہے، کرسی پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کے اشارے سے نماز ادا کرنا جائز نہیں، نماز نہیں ہوگی۔ (۲) اگر قیام پر قدرت ہے؛ لیکن گھٹنے کمر میں شدید تکلیف کی وجہ سے سجدہ کرنا طاقت سے باہر ہو یا وہ شخص جو زمین پر بیٹھنے میں قادر ہے مگر رکوع وسجدہ پر قدرت نہیں رکھتا تو یہ حضرات زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کریں، کرسیوں کو استعمال کرنا کراہت سے خالی نہیں، البتہ اگر زمین پر کسی بھی ہیئت میں بیٹھنا دشوار ہو تب کرسی پر نماز ادا کی جاسکتی ہے، کرسی استعمال کرنے کی صورت میں بھی عام سادہ کرسی پر نماز ادا کی جائے، ٹیبل والی کرسی پر نماز ادا کرنے سے احتراز کیا جائے۔ رکوع کے لیے تین نمبر کی شکل صحیح ہے، (اس آخری جملے کا تعلق مستفتی کی بھیجی ہوئی تصویر سے ہے۔ زین) زمین یا کسی کرسی پر نماز ادا کرنے سے متعلق دو امر قابل لحاظ ہیں: (۱) کرسی پر اشارہ کرنے کی صورت میں بعض لوگ رکوع میں ہاتھ کو ران پر رکھتے ہیں اور سجدہ کی حالت میں فضا میں معلق رکھ کر اشارہ سے سجدہ کرتے ہیں ایسا کرنا ثابت نہیں، رکوع وسجدہ دونوں میں ہاتھ کو ران پر رکھنا چاہیے۔ (۲) معذوری کی حالت میں زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کے ساتھ نماز ادا کرنے کی صورت میں رکوع میں سرین کا زمین سے اٹھنا ضروری نہیں بلکہ پیشانی کا گھٹنے کے مقابل ہونا ضروری ہے، جیسا کہ امداد الاحکام میں ہے: ”بحالت جلوس رکوع کرتے ہوئے صرف اتنا ضروری ہے کہ پیشانی کو گھٹنے کے مقابل کردیا جائے، اس سے زیادہ جھکنے کی ضرورت نہیں نہ سرین اٹھانے کی ضرورت ہے“۔ (امداد الاحکام: ۱/۶۰۹) اب کرسیوں پر نماز ادا کرنے والے حضرات اپنے احوال پر غور فرمائیں کہ کیا واقعتا وہ اس درجہ معذور ہیں کہ شرعاً ان کے لیے کرسی پر نماز ادا کرنا جائز ہو، اگر وہ اس درجہ میں معذور نہیں توپھر کرسیوں پر پڑھنے سے احتراز کریں تاکہ ان کی نمازیں شریعت کے مطابق ہوں اور مساجد میں بے ضرورت کرسیوں کی کثرت نہ ہو جس سے وہ شادی محل یا کوئی فنکشن ہال معلوم نہ ہو۔ بوقت ضرورت کرسی استعمال کرنے کی صورت میں ٹیبل والی کرسی اختیار نہ کی جائے۔ از: زین الاسلام قاسمی الٰہ آبادی 25/5/1432 الجواب صحیح: حبیب الرحمن عفا اللہ عنہ، محمود حسن بلند شہری غفرلہ، فخر الاسلام عفی عنہ مفتیانِ دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند -------------------------------


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند