• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 610892

    عنوان: جماعت چھوڑکر محلہ کی مسجد میں تنہا نماز ادا کرنا؟

    سوال:

    میں ایسی جگہ کام کرتا ہوں جہاں ظہر اور عصر کی نماز عام طور پر نہیں ہوتی کیونکہ مقامی گاؤں کے لوگ دوسری جگہ کام پر جاتے ہیں۔ میرے لیے کون سی مسجد میں اکیلے نماز پڑھنا افضل ہے جہاں نماز نہیں ہوتی یا ایسی مسجد میں جاؤں جہاں جماعت کے ساتھ نماز ہو؟

    برائے مہربانی مجھے بتائیں کہ کون سا زیادہ فائدہ مند ہے؟

    جزاک اللہ خیر

    جواب نمبر: 610892

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1184-888/L=8/1443

     عام حالات میں   جماعت سے نماز ادا كرنا بہتر ہے ؛ البتہ اگر آپ كے محلہ كی مسجد میں نماز نہیں ہورہی ہے تو آپ محلہ كی مسجد میں ہی اذان واقامت كے ساتھ نماز ادا كریں گو تنہا نماز ادا كرنی پڑے تاكہ مسجد كی حق تلفی نہ ہو۔بل في الخانية: لو لم يكن لمسجد منزله مؤذن فإنه يذهب إليه ويؤذن فيه ويصلي ولو كان وحده لأن له حقا عليه فيؤديه .[الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) 1/ 659]


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند