• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 610385

    عنوان:

    ریح كی كتنی مقدار سے وضو ٹوٹتا ہے؟ آواز سے وضو ٹوٹ جائے گا؟

    سوال:

    آپ کی خدمت میں ایک سوال عرض کرنا تھا کے کتنی مقدار میں ریخ خارج ہونے سے وضو ٹوٹتا ہے؟ نیز کیا سورین سے کسی بھی قسم کی آواز نکلے تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔

    (۲): یہ کے مجھے پیٹ میں گیس رہتی ہے جس سے بہت بار ایسے محسوس ہوتا ہے کے ہوا نکل گئی لیکن مکمل ہوا نہیں نکلتی ۔ ایسی صورت میں کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ اس مسئلہ میں میری مکمل رہنمائی فرما دیں۔

    جواب نمبر: 610385

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 773-397/TB-Mulhaqa=8/1443

     (1) جب ہوا نكلنے كا یقین یا ظن غالب ہو جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے‏، خواہ كم نكلے یا زیادہ‏، پیچھے كے راستے سے نكلنے والی آواز خروج ریح كا قرینہ ہے؛ اس لیے آواز سننے پر وضو ٹوٹنے كا حكم ہوگا‏۔

    (2) محض شك یا وہم كی وجہ سےوضو ٹوٹنے كا حكم نہ ہوگا ؛ بلكہ خروج ریح كا ظن غالب ہونا ضروری ہے‏، ایك حدیث میں اللہ كے رسول ﷺ نے فر مایا كہ اگر تم میں سے كسی كو اپنے پیٹ كچھ محسوس ہو اور خروج ریح كا شبہ ہوجائے تو جب تك   آواز نہ سنے یا بو محسوس نہ كرے مسجد سے ہرگز نہ نكلے یعنی آواز سننے یا بو نكلنے پر ہی وضوٹوٹنے كا حكم ہوگا‏، محض شبہ كی وجہ سے وضو ٹوٹنے كا حكم نہ ہوگا ۔ القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك. و دليلها ما رواه مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعا {إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا فأشكل عليه أخرج منه شيء أم لا فلا يخرجن من المسجد حتى يسمع صوتا، أو يجد ريحا}[الأشباه والنظائر لابن نجيم ص: 48، دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان]


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند