• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 609878

    عنوان:

    بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنا

    سوال:

    حضرت مفتی صاحب کیا بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح ہے ؟ اور اگر پڑھ لی تو کیا دوبارہ پڑھنا پڑے گا؟ وضاحت سے رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں، جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء

    جواب نمبر: 609878

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 504-289/D-Mulhaqa=7/1443

     (۱) جس بریلوی امام کی بدعت شرک کی حد تک پہنچی ہوئی ہو، جیسے قبر کو سجدہ کرنا وغیرہ تو اس کے پیچھے نماز جائز نہیں، نماز نہیں ہوگی اور اگر اس کی بدعت شرکیہ نہ ہو تو نماز تو ہوجائے گی، لوٹانا ضروری نہیں ہے؛ لیکن مکروہ ہوگی، ایسی صورت میں اگر کوئی دوسرا صحیح امام موجود نہ ہو، تو بدعتی کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہیے ، جماعت ترک نہیں کرنی چاہیے۔

    قال الحصکفی :و یکرہ امامة العبد۔۔۔۔۔و مبتدع، أی: صاحب بدعة، و ہی اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول ۔۔۔۔لایکفر بہا ۔۔۔وان کفر بھا، فلا یصح الاقتداء بہ أصلاً ۔ (الدر المختار مع رد المحتار: ۲۵۴/۲۔۔۲۵۷، ط: دار احیاء التراث العربی، بیروت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند