• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 608847

    عنوان:

    تکبیر اولیٰ کی فضیلت جماعت میں تاخیر سے پہونچنا

    سوال:

    عنوان : نماز میں ہمیشہ دیر سے آنا

    سوال : ایک شخص 5 وقت کی نماز پڑھتا ہے لیکن ہمیشہ ہر نماز میں دیر سے آتا ہے کبھی 2 رَکْعَت کے بعد کبھی 3 رَکْعَت کے بعد اور اس کا یہ عمل ہمیشہ کا ہے تو ایسے نمازی کے لیے قرآن حدیث میں کیا حکم ہے ؟ اور ایسا کرنے والے کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟

    جواب نمبر: 608847

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 641-642/D=06/1443

     ارکان و واجبات کے ساتھ سنت کے مطابق ادا کی گئی نماز مقبول ہوتی ہے۔ صورت مسئولہ میں شخص مذکور فرائض و واجبات کے ساتھ جو نماز ادا کرتا ہے اس کی نماز ادا ہوکر صحیح ہوجاتی ہے۔

    البتہ جماعت میں تاخیر سے پہونچنا اور دو ایک رکعت کے چھوٹنے کی عادت بنا لینا اچھا نہیں ہے۔ جماعت سے نماز ادا کرنا اور تکبیر تحریمہ میں شریک ہونا بڑی فضیلت کی چیز ہے۔ جماعتِ مسجد کی صف اول کو ملائکہ کی صف کے برابر کہا گیا ہے۔

    وإن الصف الاول علی مثل صف الملائکة (مشکاة) پس صف اول اور تکبیر اولیٰ کی بڑی فضیلت ہے۔ پہلی رکعت تک شامل ہوجانے سے تکبیر اولیٰ کی فضیلت حاصل ہوجاتی ہے۔ کما فی الشامی: وقیل بإدراک الرکعة الاولیٰ، وہذا أوسع وہو الصحیح (الدر مع الرد: 2/240، زکریا)

    ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس شخص نے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے اہتمام کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی، اس کے لیے دو برأت لکھ دی جاتی ہے: ایک برأت جہنم کی آگ سے دوسری نفاق سے۔

    عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من صلی للہ أربعین یوماً فی جماعةٍ یدرک التکبیرة الالیٰ کتب لہ برأتان: برأة من النار و برأة من النفاق۔ (ترمذی شریف)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند