• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 608820

    عنوان:

    وقت تنگ رہ جائے تو ظہر پوری پڑھی جائے یا صرف فرض ؟

    سوال:

    سوال: میں ایک استاد ہوں اور اکثر ظہر کے وقت دیر سے گھر آتا ہوں تو عصر کی اذان میں آدھا گھنٹہ باقی رہتا ہے ، اگر میں اس وقت ظہر کی نماز پڑھوں تو پوری بارہ رکعتیں پڑھوں یا صرف چار فرض؟

    جواب نمبر: 608820

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 616-489/M=06/1443

     نماز کے اوقات کی جانکاری کے لیے معتبر جنتری (جس میں اوقات الصلاة کا نقشہ ہو) پاس میں رکھا کریں یا موبائل میں وقت دیکھ لیا کریں (بعض اَیپ میں اوقات نماز کی سہولت دستیاب ہوتی ہے) اس سے پتہ لگ جائے گا کہ ظہر کا وقت ختم ہونے میں کتنا وقت باقی ہے اگر اتنا وقت باقی رہتا ہے کہ آپ فرض و سنن مکمل پڑھ سکتے ہیں تو پوری نماز ادا کرلیں، اگر وقت تنگ ہو صرف فرض پڑھنا ممکن ہوتو صرف چار فرض ادا کرلیں۔ (واضح رہے کہ حنفی مسلک میں ظہر کا وقت مثلین تک رہتا ہے اس لیے جنتری یا موبائل کے ذریعہ اوقات کی جانکاری میں اس کا اطمینان ہونا چاہئے کہ وہ فقہ حنفی کی رو سے معتبر ہو) اور صورت مسئولہ میں اگر گھر آکر ظہر ادا کرنے میں تاخیر ہوجاتی ہے تو آپ جس مقام پر استاد ہیں وہیں سے ظہر پڑھ کر چلا کریں بشرطیکہ چلنے سے پہلے ظہر کا وقت ہوجاتا ہو۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند