• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 608310

    عنوان:

    فجر اور عصر کے بعد امام کس رخ بیٹھے؟

    سوال:

    عنوان : فجر اور عصر کی نماز کے بعد امام کا مقتدیوں کی طرف رخ کرکے بیٹھنا

    سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کی فجر اور عصر کی نماز کے بعد بعد امام مقتدیوں کی طرف جب بالکل سیدھ میں میں کیوں نہیں بیٹھتا کی اس کا چہرہ بالکل مقتدیوں کے بالمقابل ہو ۔

    براہ کرم بدالیل مسئلے کو واضح کریں۔

    جواب نمبر: 608310

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 566-415/D=05/1443

     فجر اور عصر کی نماز کے بعد امام کے لیے، داہنی طرف یا بائیں طرف یا بالکل مقتدیوں کی طرف چہرہ کرکے بیٹھنا، تینوں طرح درست ہے اور حدیث سے ثابت ہے؛ البتہ افضل یہ ہے کہ داہنی طرف رخ کرکے بیٹھے۔ مگر ہمیشہ اس طرح نہ بیٹھا کرے، کبھی کبھار دوسرے رخ کو بھی اختیار کرے۔

    في البحر الرائق: وإن کان لا یتنفل بعدہا یقعد بعدہ وإن شاء انحرف یمیناً أو شمالاً، وإن شاء استقبلہم بوجہہ إلا أن یکون بحذائہ مصل الخ (1/585، باب صفة الصلاة، ط: دارالکتب العلمیة)

    فی سنن الترمذی: عن قبیصة بن ہلب عن أبیہ قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوٴمنا، فینصرف علی جانبیہ جمیعاً، علی یمنیہ وعلی شمالہ۔ (رقم: 301، أبواب الصلاة/ ماجاء فی الانصراف عن یمینہ وعن شمالہ، 1/355، ت: شعیب الأرنوٴوط)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند