• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 607811

    عنوان:

    زندگی میں نماز کا فدیہ دینا

    سوال:

    محترم علماء کرام، بندہ کی نانی شوگر کی مریضہ، اسی سال کی معمر خاتون ہیں،ماضی میں دل کا عارضہ اور فالج کا اٹیک ہونے کی وجہ سے کافی کمزور ہو گئی ہیں۔ فی الوقت ادا نماز کی ہی قوت ہے ، قضا نمازیں جو ذمہ پر ہیں، فی الوقت ادا نہیں کر سکتیں۔ ایسی صورت میں اس شرط کے ساتھ کہ اگر طبیعت سنبھل گئی تو بقدرِ استطاعت قضا کا اہتمام کریں گی، کیا اس بات کی گنجائش ہے کہ اپنی زندگی ہی میں نمازوں کا فدیہ ادا کر لیں۔ یا پھر وارثوں کو ان کے بعد ترکہ میں سے ہی ایک تہائی ادا کرنا ضروری ہے ۔ جزاکم اللہ خیرا۔

    جواب نمبر: 607811

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:234-91T/B-Mulhaqa=4/1443

     زندگی میں نمازوں کا فدیہ دینا جائز نہیں ہے ؛ بلکہ آپ کی نانی پر ضروری ہے کہ جس طرح ممکن ہو (مثلا:اگر کھڑی نہ ہوسکیں تو بیٹھ کر، اگر بیٹھ نہ سکیں تو لیٹ کر ،اشارے سے ) چھوٹی ہوئی فرض او ر واجب نمازوں کی قضا کرلیں، پھر بھی جو رہ جائیں ان کے بارے میں ابھی ہی وصیت کرجائیں کہ میری وفات کے بعد ان کا فدیہ ادا کردیا جائے ، وصیت کی صورت میں ورثا پر ضروری ہے کہ تہائی ترکہ سے فدیہ ادا کردیں ، ہر ایک نماز کے بدلے صدقة الفطر کی مقدار غلہ یا اس کی قیمت غریبوں کو دیدی جائے ۔ واضح رہے کہ فدیہ کے طور پر ایک تہائی ترکہ ادا کرنا ضروری نہیں ہے ؛ بلکہ مذکورہ بالا حساب سے جتنا غلہ یا رقم بنتی ہو ادا کرنا ضروری ہے (چاہے تہائی سے بہت کم میں ہو) ،اگر فدیہ کی رقم تہائی ترکہ سے زیادہ بن رہی ہو توتہائی میں جتنا ادا ہوسکتا ہو اتنا ہی ورثا پرادا کرنا ضرور ی ہے ، مابقی ادا کرنا ورثا پر ضروری نہیں ہے۔ اگر وصیت کئے بغیر وفات پاجائے تو ورثا پر فدیہ ادا کرنا ضروری نہیں ہے ؛ ہاں اگر ادا کردیں تو بہتر ہے ۔

    (قولہ ولو فدی عن صلاتہ فی مرضہ لا یصح) فی التتارخانیة عن التتمة: سئل الحسن بن علی عن الفدیة عن الصلاة فی مرض الموت ہل تجوز؟ فقال لا. وسئل أبو یوسف عن الشیخ الفانی ہل تجب علیہ الفدیة عن الصلوات کما تجب علیہ عن الصوم وہو حی؟ فقال لا. اہ. وفی القنیة: ولا فدیة فی الصلاة حالة الحیاة بخلاف الصوم. اہ.أقول: ووجہ ذلک أن النص إنما ورد فی الشیخ الفانی أنہ یفطر ویفدی فی حیاتہ، حتی إن المریض أو المسافر إذا أفطر یلزمہ القضاء إذا أدرک أیاما أخر وإلا فلا شیء علیہ، فإن أدرک ولم یصم یلزمہ الوصیة بالفدیة عما قدر.[الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/ 535، باب قضاء الفوائت، مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند