• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 606382

    عنوان:

    حرام جانور کی کھال پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

    سوال:

    حرام جانور کے کھال پر نماز کا کیا حکم ہے ؟

    جواب نمبر: 606382

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:184-82/sn=2/1443

     خنزیر کے علاوہ دیگر حرام جانور کی کھال دباغت دینے سے پاک ہوجاتی ہے، دباغت کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں، مثلا: کھال کو خشک کرلیا جائے،دوا وغیرہ کے ذریعے اس کی رطوبت دور کرلی جائے وغیرہ؛ لہذا اگر کسی حرام جانور کی کھال کی رطوبت دباغت کے ذریعے زائل کردی گئی تو اس پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنا شرعا جائز ہے۔

    (وکل إہاب) ومثلہ المثانة والکرش.م قال القہستانی: فالأولی وما (دبغ) ولوبشمس (وہو یحتملہا طہر) فیصلی بہ ویتوضأ منہ.(الدر المختار مع رد المحتار:1/ 355،ط:زکریا،دیوبند) (وجلد میتة قبل الدبغ) لو بالعرض، ولو بالثمن فباطل، ولم یفصلہ ہہنا اعتمادا علی ما سبق قالہ الوانی فلیحفظ (وبعدہ) أی الدبغ (یباع) إلا جلد إنسان وخنزیر وحیةإلخ (الدر المختار مع رد المحتار:7/ 265، مطبوعة:مکتبة زکریا، دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند