• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 606192

    عنوان:

    اذان ہونے کے بعد مسجد سے نکلنا؟

    سوال:

    بندہ ایک مسجد میں امامت کے فرائض اداکرتا ہے اور اپنے محلہ کی مسجد میں بعد مغرب طلبہ کو تعلیم دیتا ہے عشاء کی نماز کاوقت ہونے پر کسی کے نہ ہونے پر خود اذان دیتا ہے یاپھر کسی طالب علم سے اذان دلاتا ہے اور وہ طالب علم اذان کے بعد اپنے محلہ کی مسجد میں نماز باجماعت ادا کرتا ہے اور میں خود اپنی مسجد میں امامت کرنے جاتا ہے دریافت طلب ہے کہ کیا اس طرح اذان دے کر اپنی مسجد میں امامت کے لئے جانا درست ہے یانہیں؟

    جواب نمبر: 606192

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 126-104/D=02/1443

     کسی مسجد میں اذان ہوجانے کے بعد وہاں سے نکلنا مکروہ ہے ہاں اگر یہ شخص کسی دوسری مسجد کا امام یا موٴذن ہے یا دوسری مسجد کی جماعت اس پر موقوف ہے مثلاً اس کے پاس دوسری مسجد کی چابی ہے تو پھر اذان کے بعد نکلنے میں حرج نہیں۔

    پس صورت مسئولہ میں جب آپ دوسری مسجد کے امام ہیں تو آپ کے لیے اذان کے بعد نکلنا بلاکراہت جائز ہے۔

    اور طالب علم اگر دوسری مسجد کا امام موٴذن یا منتظم نہیں ہے تو پھر اس کا نکلنا مکروہ ہے۔

    ویکرہ الخروج من مسجد اذن فیہ مالم یصل الصلاة التی اذن لہا لقولہ علیہ السلام لا یخرج احد من المسجد بعد النداء الا منافق الا اخرجتہ حاجة وہو یرید الرجوع۔ رواہ ابوداوٴد۔ الا اذا کان ینتظم بہ أمر جماعة أخری بان کان اماماً أو موٴذنا فی مسجد آخر فلا یکرہ لہ الخروج الخ (غنیة المتملی محقق اسدیہ: 3/201)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند