• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 606184

    عنوان:

    قبر پر چادر چڑھانے والے کے پیچھے نماز پڑھنا ‏یا اس کی لڑکی سے نکاح کرنا ؟

    سوال:

    سوال : 1- بریلوی لوگ مزار پہ جاتے ہیں اور وہاں قبر پر چادر چڑھاتے ہیں تو کیا ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے ؟

    سوال 2- کیا کسی بریلوی جو مزار پہ جاتے ہیں اور وہاں قبر پر چادر چڑھاتے ہیں ایسے گھر کی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے ؟

    جواب نمبر: 606184

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:104-32T/sd=2/1443

     (۱) جس بریلوی امام کی بدعت شرک کی حد تک پہنچی ہوئی ہو، جیسے قبر کو سجدہ کرنا وغیرہ تو اس کے پیچھے نماز جائز نہیں، نماز نہیں ہوگی اور اگر اس کی بدعت شرکیہ نہ ہو تو نماز تو ہوجائے گی؛ لیکن مکروہ ہوگی، ایسی صورت میں اگر کئوی دوسرا صحیح امام موجود نہ ہو، تو بدعتی کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہیے، جماعت ترک نہیں کرنی چاہیے، قال الحصکفي: ویکرہ إمامة العبد ․․․․ ومبتدع، أي: صاحب بدعة، وہي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول ․․․ لا یکفر بہا ․․․․ وإن کفر بہا، فلا یصح الاقتداء بہ أصلا․ (الدر المختار مع رد المحتار: ۲۵۴/ ۲ - ۲۵۷، ط: دار إحیاء التراث ا لعربی، بیروت)

    (۲) شوہر اور بیوی کے مزاج فکر ونظر اور خیالات میں ہم آہنگی ہونا شریعت میں مطلوب ہے، اس سے رشتہٴ نکاح میں پائداری اور زندگی میں خوشگواری حاصل ہوتی ہے، بریلوی فرقہ کے یہاں چونکہ مختلف قسم کی رسوم وبدعات مروج ہیں، جن کا اثر ازدواجی زندگی پر پڑسکتا ہے اور نکاح کے مصالح فوت ہوسکتے ہیں، اس لیے بریلویوں کے یہاں نکاح کرنے سے احتیاط چاہیے، اس میں دینی نقصان کا بھی اندیشہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند