• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 606049

    عنوان:

    ڈاڑھی کتروانے شخص کا اذان دینا؟

    سوال:

    سوال کیا فرماتے ہیں مفتی صاحب مسئلہ ذیل کے بارے میں جو شخص داڑھی کٹاتاہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے جبکہ مسجد میں کوئی باشرع شخص موجود نہیں ہے توایسی مجبوری میں وہ کیا کرے ۲اورجوباشرع شخص مسجد میں ہے اس کے اذان کے الفاظ کچھ غلط ہیں۔ اور کچھ صحیح ہیں۔ اور ان دو شخص کے سوا مسجد میں صحیح اذان پڑنے والا نہیں ہے توایسی مجبوری میں کیا کرے؟ جواب مکمل مدلل دیں۔

    جواب نمبر: 606049

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:33-10T/sd=1/1443

     (۱)مجبوری میں تو گنجائش ہے؛ لیکن مسجد کمیٹی یا متولی کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی باشرع شخص کو اذان کے لیے متعین کرے؛ اس لیے کہ ایک مشت سے پہلے ڈاڑھی کٹانے والا شخص فاسق ہے اور فاسق کی اذان مکروہ تحریمی ہے، اذان اسلام کے شعائر میں سے ہے اور ایک اہم دینی منصب ہے ، اذان دینے والے کی ظاہری شکل و صورت اسلامی ہونی چاہیے۔ ویکرہ اذان الفاسق ولایعاد ھکذا فی الذخیرة ( فتاوی ہندیہ :۵۴/۱)

    (۲) باشرع شخص کا تلفظ ٹھیک نہیں ہے، اس سے کیا مراد ہے کس درجہ ٹھیک نہیں ہے؟ داڑھی منڈانا حرام اور معصیت ہے اور ایسا شخص فاسق ہے، اور فاسق کی اذان واقامت مکروہ ہے، اگر باشرع آدمی (داڑھی والا شخص) اذان کے کلمات کا بالکل غلط تلفظ کرتا ہے جس سے معنی بدل جاتے ہیں تو اس کی اذان صحیح نہیں ہوگی، ایسی صورت میں ڈاڑھی منڈانے والے شخص کو اذان دینے کے لیے ترجیح حاصل ہوگی اور اگر تلفظ میں معمولی کمی ہے، تو فاسق کے مقابلے میں باشرع ہی کو ترجیح ہوگی، باقی بہتر یہ ہے کہ کوئی تیسرا آدمی جو باشرع ہو اور کلمات اذان کا بھی صحیح صحیح تلفظ کرتا ہو اس کو اذان دینا چاہیے۔

    عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لیوٴذن لکم خیارکم ولیوٴم قراوٴکم (ابو داوٴد، رقم : ۵۹۰)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند