• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 605598

    عنوان:

    شروع نماز سے شریك ہونے والا امام كے سلام كے بعد اگر غلطی سے كھڑا ہوجائے تو كیا حكم ہے؟

    سوال:

    امام کے ساتھ شروع رکعت سے شامل ہوا ، لیکن جب امام نے سلام پھیرا دونوں طرف تو میں سیدھا کھڑا ہوگا تو کیا حکم ہوگا؟

    جواب نمبر: 605598

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:896-676/N=12/1442

     اگر کوئی شخص امام کے ساتھ شروع نماز سے شامل ہوا؛ لیکن جب امام نے سلام پھیرا تو وہ بھول کر اپنے کو مسبوق سمجھ کر کھڑا ہوگیا تو اس نئی رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے جب بھی اُسے یاد آجائے، قعدہ کی طرف واپس آکر سجدہ سہو کے ساتھ نماز مکمل کرے اور اگر اس نے نئی رکعت کا سجدہ کرلیا تو مزید ایک رکعت ملاکر ۲/ رکعت کرکے سجدہ سہو کے ساتھ نماز مکمل کرے، اور اگر مزید ایک رکعت نہ ملاکر سجدہ سہو کے ساتھ نماز مکمل کرلی تب بھی نماز ہوگئی۔

    (وإن قعد فی الرابعة) مثلاً قدر التشھد (ثم قام عاد وسلم)………، (وإن سجد للخامسة سلموا)……(وضم إلیھا سادسة) لو في العصر وخامسة في المغرب ورابعة في الفجر، بہ یفتی (لتصیر الرکعتان لہ نفلاً) والضم ھنا آکد، ولا عھدة لو قطع ، ولو قطع بإتمامہ في وقت کراھة علی المعتمد (وسجد للسھو) في الصورتین لنقصان فرضہ بتأخیر السلام في الأولی وترکہ في الثانیة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب سجود السھو، ۲: ۵۵۳، ۵۵۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۴: ۵۰۱ - ۵۰۴، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    قولہ: ”في الصورتین“: أي: ما إذا لم یسجد للخامسة أو سجد (رد المحتار)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند