• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 605293

    عنوان:

    جس نے دو سگی بہنوں كو نكاح میں ركھا ہو ‏، اس كی دی ہوئی زمین پر مسجد تعمیر كرنا اور اس میں نماز پڑھنا كیسا ہے؟

    سوال:

    میرے محلے میں ایک آدمی نے دو سگی بہن سے نکاح کیا اور دونوں سے اولاد بھی ہی ۔محلے والے نے بتایا کی یہ جائز نہیں ہی پھر بھی اُسنے ایک کو نہیں چھوڑا دونوں کو ساتھ رکھا ۔یہ بریلی مکتبِ فکر کا آدمی ہی۔ اُس نے ایک زمین مسجد کے لیے دی تھی۔محلے میں پہلے سے مسجد موجود ہے ۔ اب اس کا انتقال ہو چکا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کی اسکے گھر کا ایک گلاس پانی بھی حرام ہی۔ اب اس زمین مے مسجد کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا ہے ۔لوگو مے یہ خیال ہی اسمِ نماز ہوگی یہ نہیں۔ کیا ایسے آدمی کی دی ہوئی زمین میں مسجد بنانا جائز ہے یا نہیں؟ کیا اس بنی ہوئی مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 605293

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1071-840/L=11/1442

     دوبہنوں کو نکاح میں جمع کرنا اگرچہ ناجائز وحرام تھا ؛ تاہم اس کی وجہ سے اس کی آمدنی حرام نہیں ہوئی؛ لہذا اگر اس نے حلال رقم سے زمین خرید کر مسجد کے لیے دی تھی یا آبائی زمین وقف کی تھی تو اس پر مسجد تعمیر کرنا درست ہوگا اور اس مسجد میں نماز ادا کرنا جائز ہوگا ۔

    قال تاج الشریعة: أما لو أنفق فی ذلک مالا خبیثا ومالا سببہ الخبیث والطیب فیکرہ لأن اللہ تعالی لا یقبل إلا الطیب، فیکرہ تلویث بیتہ بما لا یقبلہ. اہ. شرنبلالیة․ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 1/ 658)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند