• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 605060

    عنوان:

    دوسری ركعت پر بیٹھے بغیر امام كھڑا ہوگیا‏، پھر لقمہ دینے پر بیٹھ گیا‏، نماز كا كیا حكم ہے؟

    سوال:

    حضرات علمائے اکرام اہلست والجماعت اسلام علیکم ورحمتہ اللہ مسئلہ درپیش ہے کہ وتر نماز کے اندر درمیان والی تشہد بیٹھنے کی بجائے امام صاحب سیدہ کھڑے ھوگئے پیچھے سے مقتدی کے لقمہ آنے سے امام صاحب واپس بیٹھ گئے تشہد کے بعد تیسری رکعت پوری کی سلام پھیردیا اور سجدہ سہو نہیں (1)کیا مقتدی کے لقمہ دینے سے امام صاحب کو واپس بیٹھنا چاہیے تھا یا نہیں (2)نماز ھوئی یا نہیں (3) اگر نہیں ھوئی تو نماز دوبارہ پڑھنی چاہیے تھی یا نہیں اس بارے میں کیا فرماتے ہیں علمائے حق۔

    جواب نمبر: 605060

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1228-870/H=11/1442

     (۱) واپس بیٹھنا نہ چاہئے تھا بلکہ مقتدیوں کو بھی تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہوجانا تھا تاہم اگر بیٹھ گئے تو سجدہٴ سہو کرنا چاہئے تھا۔

    (۲) اگر سجدہٴ سہو نہ کیا تھا تو وقت اداء میں نماز لوٹانا واجب تھا اور وقت اداء میں نہ لوٹائی تو نماز کا وقت نکل جانے کے بعد لوٹانا واجب نہیں۔

    (۳) اگر وقت اداء میں نہ لوٹائی تھی تو اب واجب نہیں اگر تنہا تنہا پڑھ لیں تو مستحب ہے۔ یہ حکم اُس صورت میں ہے کہ دوسری رکعت میں قعدہ چھوڑ کر امام صاحب سیدھے کھڑے ہوگئے تھے (جیسا کہ استفتاء میں صراحت ہے) اگر امام صاحب سیدھے کھڑے نہ ہوئے تھے بلکہ قعود ہی کے قریب تھے یعنی پنڈلیاں رانوں سے جدا نہ ہوئی تھیں کہ مقتدیوں نے لقمہ دیا اور امام صاحب بیٹھ گئے تو اِس صورت میں سجدہٴ سہو بھی واجب نہ ہوا تھا اور نماز بغیر سجدہٴ سہو کے بلاکراہت درست ہوگئی تھی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند