• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 604062

    عنوان:

    مدرسہ کے کسی کمرے یا ہال میں نماز باجماعت ادا کرنا؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں ہمارے مدرسے کے دار الاقامہ میں طلبہ کرام مقیم ہیں جس میں نماز پڑھنے کے لئے کوئی مسجد نہیں ہے البتہ پچاس میٹر کی دوری پر مسجد ہے لیکن ہم لوگ طلباء کی تربیت کے پیش نظر مدرسہ میں ہی جماعت کرتے ہیں سوائے نماز جمعہ کے ،صورت مسؤلہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں ہمیں مسجد کی جماعت کی نماز کے برابر ثواب ملے گا یا نہیں؟مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 604062

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:677-530/N=8/1442

     مدرسہ کے کسی کمرے یا ہال میں نماز باجماعت ادا کرنے پر جماعت کا تو ثواب ملے گا؛ لیکن مسجد کی فضیلت حاصل نہ ہوگی؛ لہٰذا گر طلبہ کو اُن کی اخلاقی تربیت ونگرانی وغیرہ کے مد نظر نماز باجماعت کے لیے مدرسہ کے باہر پچاس میٹر دوری پر واقع مسجد میں لے جانا مناسب نہیں ہے تو مدرسہ کے احاطے ہی میں کسی ایسی جگہ مدرسہ کی مسجد تعمیرکرلی جائے (فتاوی محمودیہ ، ۱۵:۴۸۶، ۴۸۷، سوال: ۷۵۷۱، مطبوعہ: ادارہٴ صدیق ڈابھیل)، جس کا ایک راستہ باہر سے بھی ہو، اس صورت میں طلبہ کو نماز باجماعت کے لیے باہر لیجانے کی بھی ضرورت نہ ہوگی اورنماز باجماعت میں مسجد کی فضیلت بھی حاصل ہوجائے گی ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند