• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 603837

    عنوان:

    بچے كو صف میں كہاں كھڑا ہونا چاہیے؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ چھوٹا نابالغ بچہ مردوں کی صف میں کھڑا ہو جائے تو مردوں کی نماز صحیح ہو جائے گی یا خراب ہو جائے گی؟

    جواب نمبر: 603837

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:749-595/L=8/1442

     کسی بچے کے صف میں کھڑے ہوجانے کی وجہ سے بڑوں کی نماز فاسد نہیں ہوتی ۔

    نوٹ: اگر بچہ اکیلاہو تو وہ بڑوں کی صف میں کھڑا ہوکر نماز ادا کرسکتا ہے اور کئی بچے ہوں تو ان کی الگ صف بنادی جائے ؛ البتہ اگر بچوں کے ایک جگہ جمع ہونے سے یہ اندیشہ ہو کہ وہ شور وشغب کریں گے جس کی وجہ سے بڑوں کی نماز میں خلل پیدا ہوسکتا ہے تو اس صورت میں ان کو بھی بڑوں کی صفوں میں کھڑا کردیا جائے تاکہ بڑوں کی نمازوں میں خلل واقع نہ ہو ۔

    ویصف․․․ الرجال․․․ ثم الصبیان، ظاہرہ تعدد ہم، فلو واحدً دخل الصف (درمختار) وفی تقریرات الرافعی: قال الرحمتی ربما یتعین فی زماننا إدخال الصبیان فی صفوف الرجال؛ لأن المعہود منہم إذا اجتمع صبیان فأکثر تبطل صلاة بعضہم ببعض، وربما تعدی ضررہم إلی إفساد صلاة الرجال انتہی․ اہ سندی. (درمختار مع الشامی: ۲/ ۵۱۲، ط: زکریا، دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند