• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 603082

    عنوان:

    چند روز قبل نماز فجر میں ونجنی من القوم الظالمین کی جگہ ونجنی من المؤمنین پڑھا گیا تھا‏، اس نماز كے بارے میں كا كیا حكم ہے؟

    سوال:

    مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے فجر کی نماز پڑھائی جس میں سورہ تحریم کی تلاوت کی اور آخر میں وضرب اللہ مثلا للذین امنوا امراہ فرعون اذ قالت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنہ ونجنی من فرعون وعملہ ونجنی من القوم الظالمین کی جگہ ومثلا للذین امنوا امراہ فرعون اذ قالت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنہ ونجنی من فرعون وعملہ ونجنی من المؤمنین کی تلاوت کر کے رکوع کر دی اور بعد میں معلوم ہوا کہ میں نے فجر کی نماز میں اس طرح تلاوت کی چند روز گزر گئے ہیں اب امام کیا کریں برائے مہربانی تفصیل سے وضاحت کریں ۔

    جواب نمبر: 603082

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 520-631/M=10/1442

     صورت مسئولہ میں امام کو اور جن لوگوں نے اُس دن فجر کی نماز امام کی اقتداء میں ادا کی ہے ان سب کو اپنی نماز فجر، لوٹا لینی چاہئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند