• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 602838

    عنوان:

    صاحب ترتیب كے لیے قضا نمازوں کی ادائیگی کا طریقہ

    سوال:

    جب کوئی نماز قضا ہو جاتا ہے ہے تو اس کی ادائیگی نماز سے پہلے ادا کرنا لازم ہے ۔لیکن مندرجہ ذیل صورتوں میں کیا کرنا ہے 1 اگر جماعت سے پہلے نماز ادا کرنے کا موقع نہ ملے تو تو کس طرح پڑھنا ہیں ہیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ہے یا پہلے قضانماز ادا کرنا ہے ؟

    2-لگاتار کتنی نمازیں قضا ہو جائے تو اس کو جب بھی موقع ملے پڑھناہے 3 اگر نماز وتر رہ جائیں تو کیا اس کی ادائیگی باقی فرض نمازوں کی طرح نماز سے پہلے لازم ہیں یا نہیں 4 بہت زیادہ نماز قضا ہوئی ہو تو اس کا کیا طریقہ ہے ؟

    جواب نمبر: 602838

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 500-402/D=07/1442

     (۱) اگر صاحب ترتیب ہیں (یعنی پچھلی چھ (۶) نمازیں ذمہ میں واجب نہیں ہیں) تو پہلے قضا نماز پڑھیں پھر ادا نماز پڑھیں۔ قضا نماز پڑھنے کے بعد جماعت میں شامل ہوں جماعت فوت ہوجانے کا اندیشہ ہوتو بھی پہلے قضا پڑھیں ۔

    (۲) چھ (۶) نمازیں ذمہ میں لازم ہوں (یعنی قضا ہوجائیں) تو وقتی نماز ادا کرسکتے ہیں اور چھ (۶) سے زاید نمازیں جو ذمہ میں باقی ہیں جب موقعہ ملے پڑھتے رہیں۔

    (۳) جی ہاں صاحب ترتیب کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وتر کی قضا پڑھے پھر وقتی نماز ادا کرے۔

    (۴) چھ (۶) یا اس سے زاید نماز ذمہ میں لازم (قضا) ہوجانے کے بعد ترتیب واجب نہیں رہتی اب جس طرح بھی ہو پہلے پچھلی نمازیں قضا کرے لیکن جب ادا کرتے کرتے صرف پانچ (۵) قضا نمازیں باقی رہ جائیں گی تو انھیں اور وقتی نماز کے ادا کرنے میں ترتیب نہیں لوٹے گی جب ساری قضا نمازیں ادا ہوجائیں گی تب یہ شخص صاحب ترتیب بن جائے گا۔ قال فی الدر: الترتیب بین الفروض الخمسة والوتر اداءً وقضاءً لازم ․․․․ فلم یجز فجر من تذکر انہ لم یوتر لوجوبہ عندہ ․․․․․ الا اذا ضاق الوقت المستحب او نسیت الفائتة لانہ عذر او فاتت ست (الدر مع الرد: 2/526) وقال ایضا فی الشامی: ولا یعود لزوم الترتیب بعد سقوطہ بکثرتہا الفوائت یعود الفوائت الی القلة ب سبب القضاء لبعضہا علی المعتمد (الدر مع الرد: 2/529)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند