• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 602815

    عنوان:

    جو شخص بیٹھ كر ركوع اور سجدہ كرنے پر قدرت نہ ركھتا ہووہ نماز كس طرح ادا كرے؟

    سوال:

    امید ہے کہ حضرات مفتیان کرام بخیر وعافیت ہوں گے ۔ آپ حضرات مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کوئی شخص عذر کی بنا پر کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھے تو کیا وہ قیام اور رکوع بھی کرسی پر بیٹھے ہی بیٹھے ادا کرسکتا ہے جبکہ وہ قیام اور رکوع پر قادر بھی ہے ، نیز یہ بھی واضح رہیکہ ہمارے اکابر میں سے فقیہ العصر حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب اور عہد حاضر کے برصغیر کے دو ممتاز فقیہ شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب(مدظلہ)اور حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب(مدظلہ) کی رائے گرامی معذور عن السجدہ جو قادر علی القیام ہو اس سے قیام کے ساقط نہ ہونے کی ہے لہذا ان حضرات کے نزدیک کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا قیام و رکوع کھڑے ہوکر کرے پھر کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے سجدہ کریگا، نیز یہ بھی واضح رہیکہ: مذھب احناف میں معذور عن السجدہ سے قیام و رکوع ساقط ہے گو وہ قادر علی القیام ہو اور اسے بیٹھ کر نماز پڑھنا ہی افضل قرار دیا گیا ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہیکہ:صورت مسئولہ میں ان مذکورہ حضرات اکابر کی تحقیق اور احناف کے اصل مذھب کے پیش نظر شرعی حکم کیا ہے ؟ اور عوام الناس کو کیا مسئلہ بتایا جائے ، آیا حقیقی قیام و رکوع کو ضروری قرار دیا جائے یا اسے افضل قرار دیا جائے۔ (کما ھو رأی من سبق ذکرھم) یا پھر پوری نماز بیٹھ کر پڑھنے کو افضل بتلایا جائے (کما ھو مذھبنا)۔؟ مفصل جواب سے نوازیں۔ جزاکم اللہ تعالی احسن الجزاء واجزل لکم اجرا۔

    جواب نمبر: 602815

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 597-72T/B=07/1442

     جو شخص بیٹھ کر رکوع اور سجدہ کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو اس کے لئے بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ اس شخص سے قیام ساقط ہوجاتا ہے، اسے بیٹھ کر ہی تمام ارکان ادا کرنا ہوگا یعنی رکوع اور سجدہ کے لئے کرسی پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھے گا، اسے کھڑے ہونے اور رکوع کرنے کی ضرورت نہیں۔ فقہاء نے یہی اصول کتابوں میں لکھا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند