• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 602258

    عنوان:

    نمازی کے آگے ہاتھ ركھ كر آگے سے گذرنا؟

    سوال:

    ایک مفتی صاحب مسئلہ یہ ہے نمازی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو بعض لوگ ہاتھ رکھ دیتے ہیں او اور دوسرا آدمی آگے سے نکل جاتا ہے تو نکلنے والے کا نکلنا کافی ہو جائے گا یا گناہ میں شامل ہوگا ہاتھ رکھنا کیسا ہے نمازی کے آگے کسی کو نکلنے کے لیے ہاتھ رکھتے ہیں وہ کیسا ہے گناہ ہوگا؟

    جواب نمبر: 602258

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 401-313/D=06/1442

     سترہ لگانے کا حکم اس لئے دیا گیا تاکہ نمازی کے خیالات اِدھر اُدھر منتشر نہ ہوں اور یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب سترہ کو زمین میں گاڑا جائے۔ چنانچہ جہاں گاڑنے کا موقعہ ہو وہاں یہی حکم رہے گا ورنہ یعنی گاڑنے کا موقعہ نہ ہو تو زمین پر رکھ دینا بھی کافی ہوسکتا ہے ۔اور فقہاء نے زمین کے سخت ہونے کی صورت میں لمبائی میں رکھ دینے کی اجازت دی ہے۔ قال المرغینانی: والغرز دون الإلقاء والخط لأن المقصود لا یحصل بہ قال ابن الہمام: قولہ الغرز دون الإلقاء ہذا إذا کانت الأرض بحیث یغرز فیہ، فان کانت صلبة، اختلفوا، فقیل توضع وقیل لا توضع ․․․․․․ قال البابرتی: فإنہ یضعہا طولاً لتکون علی ہیئة الغرز (الہدایة مع فتح القدیر: 1/471)

    عصا نمازی کے سامنے رکھتے ہوئے آگے سے گذر جانے کے بارے میں علامہ شامی فرماتے ہیں کہ ہمیں اس کا حکم صراحةً نہیں ملا۔

    قال: وإذا کان معہ عصا لاتقف علی الأرض بنفسہا فأمسکہا بیدہ ومر من من خلفہا؛ ہل یکفي ذالک؟ لم أرہ (الدر مع الرد: 1/401) ۔

    مفتی رشید احمد صاحب لدھیانی فرماتے ہیں بہ ظاہر اس کے جواز میں کوئی مانع نہیں ہے، لہٰذا بوقت ضرورت اس کی گنجائش ہے۔

    اسی طرح بوقت ضرورت چھڑی وغیرہ لٹا دینا ، خط کھینچ دینا، رومال سے سترہ بنا لینے کی گنجائش ہے۔

    صورت مسئولہ میں ہاتھ رکھنے کی کیا شکل ہوتی ہے، واضح نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے نمازی کو مزید خلل یا تشویش لاحق ہونے کا اندیشہ تو نہیں ہے؟


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند