• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 601799

    عنوان:

    سنتیں پڑھے بغیر نماز پڑھانا؟

    سوال:

    بخدمتِ گرامی ،مسجد کے امام کے لےٴ فجر اور ظہر کی فرض نماز سے پہلے سنّتِ موَکدہ کی کیا اہمیت ہے؟ ہمارے علاقے کی مسجد میں مقرّر شدہ امام ہیں۔ امام صاحب ظہر کی نماز کے لے مسجد میں تشریف لاےٴ، وضو سے فارغ ہوےٴ، جماعت میں صرف 2 منٹ باقی تھے۔ میں نے جیسا کہ اپنے والد صاحب مرحوم سے سنا تھا کہ "فجر اور ظہر کی امامت کرنے سے قبل امام کو لازم ہے کہ فرض نماز سے قبل سنّتِ موَکدہ ادا کر لے اور اگر کسی وجہ سے دیر ہو گیٴی ہو اور جماعت کا وقت ہو گیا ہو تو کسی دوسرے شخص سے، جو کہ امامت کے لایق ہو اور جس نے سنتِ موَکدہ ادا کی ہو، اُس سے امامت کرواےٴ "، امام صاحب سے عرض کیا، مگر انہوں نے اس بات پر کچھ بھی غور نہیں کیا اور جماعت کا وقت ہونے پر جاکر خود مصلّے پر کھڑے ہو گے اور امامت فرمایٴ۔ جبکہ اُس وقت مسجد میں چند ایسے حضرات موجود تھے جو امامت کر سکنے کے لایق ہیں اور کھی امام صاحب کی عدم موجودگی میں جماعت کی امامت بھی کرتے ہیں، اور وہ اشخاص سنّتِ موَکدہ بھی ادا کر چکے تھے۔ برائے مہربانی اس معاملے میں وضاحت فقہی اور علمی اعتبار سے وضاحت فرما دیں کہ مزکورہ بالا حالات میں مسجد کے مقرر شدہ امام اور مقتدی حضرات کو کیا کرنا چاہےٴ؟ اور کیا مزکورہ بالا طور پر ادا کی گئی نماز درست ہوگی، مکروہ تو نہیں ہوگی؟

    جواب نمبر: 601799

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 410-49T/B=05/1442

     فجر سے پہلے جو سنت ہے وہ بہت ہی موکد ہے وہ امام کو نہیں چھوڑنی چاہئے، بلکہ اسے پڑھ کر فجر کی فرض نماز پڑھانی چاہئے خواہ ایک دو منٹ کی دیر ہوجائے؛ البتہ ظہر سے پہلے جو چار رکعت سنت موکدہ ہے وہ اتنی تاکیدی سنت نہیں ہے۔ اگر ظہر کی جماعت کا وقت ہوگیا ہے اور امام کے سنت پڑھنے میں مقتدیوں کے لئے انتظار شاق گذرے گا تو امام ظہر سے پہلے والی سنت پڑھے بغیر ظہر کی فرض نماز پڑھا سکتا ہے اور یہ بلا کراہت درست ہے۔ آپ نے جو اپنے والد صاحب سے مسئلہ سنا ہے ایسا کوئی مسئلہ کتب فقہ میں موجود نہیں ہے۔ فجر کی سنت اگر امام چھوڑ دے تو فجر کے بعد نہیں ادا نہیں کرسکتا ہے اور ظہر کی سنت امام چھوڑ دے تو فرض کے بعد بلاکراہت ادا کر سکتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند