• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 601319

    عنوان: مسجد میں جماعت ثانیہ مکروہ تنزیہی ہے یا تحریمی؟

    سوال:

    ۱)سوال یہ ہے کہ مسجد میں جماعت ثانیہ مکروہ تنزیہی ہے یا تحریمی؟

    ۲)اگر مسجد میں جماعت ہونے کے بعد کچھ لوگ مسجد میں آئے تو ان کا مسجد میں الگ الگ نماز پڑھنا بہتر یا ان کو کراہت کے ساتھ ہی مسجد میں نماز پڑھ لینا چاہیے؟

    ۳)کچھ لوگوں کی جماعت چھوٹ گئی تو ان کو مسجد میں تنہا تنہا نماز پڑھنا بہتر ہے یا گھر میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا بہتر ہے؟

    ۴) عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جماعت کے بعد کچھ لوگ جن کی جماعت چھوت گئی رہتی ہے آکر پہلے یا دوسرے منزلہ پہ جاکر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں کیا یہ بھی مکروہ ہے؟ اگر نہیں تو کیا وجہ ہے؟ جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت کریں۔ شکراجزیلا۔

    جواب نمبر: 601319

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:282-240/sd=5/1442

     (۱) مسجد میں ہیئت اولی پر جماعت ثانیہ کرنا مکروہ تحریمی ہے اور ہیئت اولی سے ہٹ کر دوسری جماعت کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ (کفایت المفتی: ۳/۹۷، ۳/۱۰۲، ۳/۱۱۰، ط: زکریا، دیوبند، فتاویٰ محمودیہ: ۶/۴۳۵، ط: شیخ الاسلام، دیوبند)

    (۲) مسجد میں جماعت ہوجانے کے بعد دوسری جماعت نہیں کرنی چاہیے ؛ بلکہ مسجد میں یا تو تنہا تنہا نماز پڑھ لی جائے اور اگر جماعت کرنی ہے تو مسجد سے ہٹ کر کسی دوسری جگہ جماعت کریں۔

    (۳) دونوں صورتوں میں کوئی بھی صورت اختیار کی جاسکتی ہے ؛ البتہ گھر میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے ۔ ( امداد الاحکام:۵۰۱/۱)

    (۴) جی ہاں! یہ عمل مکروہ ہے ، مسجد شرعی کی حدود میں دوسری جماعت کرنا مکروہ ہے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند