• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 600962

    عنوان: جن دنوں مساجد بند رہیں ان دنوں كی تنخواہ كا حكم

    سوال:

    ملک میں میں کورونا وائرس کی وجہ سے سے ماہ اپریل 2019 سے پورے ملک میں دو ماہ تک مسلسل مساجد بند رہی اس کے بعد صوبائی انتظامیہ کی جانب سے پانچ لوگوں کو ایک ساتھ نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی اس مدت میں ہماری مسجد کے امام صاحب نے شروع کے دو ماہ تو صرف جمعہ کی نماز پڑھائی اور اس کے بعد مسجد میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے مسجد کی انتظامیہ سے یہ بات رکھی کہ آپ نمازیوں کی تعداد پر کنٹرول کریں کیونکہ انتظامیہ کی جانب سے صرف پانچ آدمیوں کی ہی اجازت ہے لیکن مسجد کی انتظامیہ نے اس پر کوئی توجہ نہ دی اب امام صاحب نے اپنی تنخواہ کا سوال رکھا جس پر انتظامیہ نے مسجد میں بجٹ نہ ہونے کی بات کہی ۔ اور یہ بات کہی کے لاک ڈاؤن کی مدت میں آپ نے پابندی کے ساتھ نماز ہی نہیں پڑھائی تو تنخواہ کس بات کی۔ اور امام صاحب کو منصب امامت سے الگ کردیا اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا امام صاحب کو اس لاک ڈاؤن کی مدت کی تنخواہ لیناجائز ہے یا ناجائز ان کو پوری تنخواہ دی جائے گی یا آدھی شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں۔

    جواب نمبر: 600962

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 137-37T/D=04/1442

     امامت کا معاملہ فقہی اصطلاح کے اعتبار سے اجارہ کا معاملہ ہوتا ہے اور ”امام“ اجیر خاص ہوتا ہے اور اجیر خاص کے لیے حکم شرعی و فقہی یہ ہے کہ اس کی طرف سے اگر تسلیم نفس پایا جائے بایں طور کہ وہ خود مفوضہ امور انجام دینے پر راضی ہو نیز وہ عمل کی انجام دہی پر قدرت بھی رکھتا ہو یعنی اس کی طرف سے عمل کرنے کے لئے کوئی رکاوٹ نہ پائی جائے تو وہ اجرت کا حقدار ہوگا خواہ مستاجر (انتظامیہ) اس سے کام لے یا نہ لے۔ گورنمنٹ کی جانب سے رکاوٹ ہونے کی بنا پر اس کا استحقاق اجرت ختم نہیں ہوگا۔

    صورت مسئولہ میں امام کام کے لئے تیار اور موجود تھا لہٰذا وہ اجرت کا مستحق ہوگا۔ قال فی الشامي: والثانی وہو الأجیر الخاص ویسمی أجیر واحد وہو من یعمل لواحد عملاً موٴقتا بالتخصیص ویستحق الأجر بتسلیم نفسہ في المدة وإن لم یعمل ۔ (الدر مع الرد: ۹/۹۵)

    دررالحکام شرح مجلة الاحکام میں ہے۔

    المادة (۴۲۵) الأجیر یستحق الأجرة اذا کان فی مدة الإجارة حاضراً للعمل الأجیر یستحق الأجرة اذا کان فی مدة الإجارة حاضراً للعمل ولا یشترط عملہ بالفعل ولکن لیس لہ ان یمتنع عن العمل وإذا امتنع لا یستحق الأجرة ۔ ومعنی کونہ حاضراً للعمل ان یسلم نفسہ للعمل ویکون قادراً وفي حال تمکنہ من ایفاء ذلک العمل (ج: ۱/۴۵۸)

    حکومت کی جانب سے افراد پر پابندی تھی امام صاحب پر تو نہیں تھی۔

    شروع کے دو ماہ امام صاحب نے پنجوقتہ نماز کیوں نہیں پڑھائی؟ جب اس طرح کی صورت حال پیش آئی اس وقت امام صاحب پر واضح کردینا چاہئے تھا کہ مسجد انتظامیہ ایسی صورت میں تنخواہ نہیں دے گی یا نصف تنخواہ پر معاملہ طے کرلینا چاہئے تھا لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا ہاں امام صاحب بطور مصالحت اگر مسجد کا بجٹ دیکھتے ہوئے اور موجود صورت حال کے مدنظر مسجد کے حق میں اپنی بعض تنخواہ سے دستبردار ہو جائیں تو ان کی طرف سے مسجد کا تعاون ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند