• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 600714

    عنوان:

    موئے زیر ناف چالیس سے زیادہ صاف نہ كیے جائیں تو كیا نماز مكروہ ہوتی ہے؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: اگر کوئی شخص چالیس دن کے بعد بھی موئے زیرناف یابغل نہ صاف کرے تو اس کا یہ عمل مکروہ تحریمی ہوگایہ بات تو طے شدہ ہے ،اب دریافت امر یہ ہے کہ کیااس کی نماز بھی مکروہ تحریمی ہوگی؟ بعض حضرات تحریمی قرار دیتے ہیں اور بطور دلیل شامی کی یہ عبارت پیش فرماتے ہیں" وکرہ ترکہ ای تحریما لقول المجتبی" (فتاوی شامی،ج/۹، ص/۵۸۳، ط: بیروت)حالانکہ مذکورہ بالا عبارت میں علامہ شامی نے اس فعل کو مکروہ قرار دیاہے جو اس کا چالیس دن سے زائد کا فعل ہے ،نہ کہ نماز کو۔ اس بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں صحیح وضاحت فرمادیں کہ درست کیاہے ؟ اگر مکروہ ہے تو وجہ کیاہے ؟ نیز یہ بھی بتلادیں کہ اگر مکروہ ہے تو تنزیہی ہے یاتحریمی؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں صحیح وضاحت فرماکرشاکر فرمائیں۔

    برائے کرم اس استفتاء کو پی ڈی ایف کی شکل میں ارسال فرمائیں۔

    جواب نمبر: 600714

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 124-144/M=03/1442

     حدیث میں ہے: وقّت لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی قص الشارب وتقلیم الأظفار ونتف الإبط وحلق العانة أن لانترک أکثر من أربعین لیلةً ۔

    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے مونچھیں تراشنے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال صاف کرنے اور زیر ناف بال لینے کے لئے وقت کی تحدید فرمادی ہے کہ ہم چالیس روز سے زائد نہ چھوڑیں۔ اس لیے زائد سے زائد چالیس روز تک تو گنجائش ہے اس کے بعد ترک مکروہ تحریمی ہے اور مکروہ تحریمی کے ارتکاب سے نماز میں بھی کراہت آئے گی (حوالے کے لئے دیکھئے حضرت مفتی سعید احمد صاحب رحمہ اللہ کی کتاب: ڈاڑھی اور انبیاء کی سنتیں) فإن ترک إلی أربعین یوماً فصلوتہ مکروہة، قالہ فی القنیہ ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند