• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 600061

    عنوان: پلاسٹک اسکرین ماسک لگاكر نماز سجدہ كرنا؟

    سوال:

    پلاسٹک اسکرین ماسک اپنے شکل و صورت میں ملتاہے جس میں تھوڑی سے لے کر پیشانی تک کا حصہ ڈھکا ہوا رہتاہے،سجد ہ کرتے وقت پیشانی اور ناک زمین سے ٹچ ہوتی ہے مگر پلاسٹک اسکرین کے ساتھ، تو کیا اس کو پہن کر نماز پڑھنا درست ہے؟

    جواب نمبر: 600061

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:81-96/L=2/1442

    عام حالات میں بلا کسی عذر کے منھ ڈھانپ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے ؛مگر موجودہ وقت میں کورونا وائرس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کے طور پر نماز کے اندر اگر کوئی ایسا ماسک یا کپڑے کا استعمال کرے، جس سے منھ اور ناک ڈھک جائے تو شرعا اس کی گنجائش ہے؛ اور ممکن ہے کہ اس صورت میں کراہت مرتفع ہوجائے، واضح رہے کہ ماسک کے استعمال کی گنجائش بیماری سے بچاوٴ اور حکومتی ہدایات کے پیش نظر ہے؛ اس لیے نماز میں ایساہی ماسک استعمال کیا جائے جس سے ضرورت پوری ہوجائے؛ صورت مسئولہ میں جس ماسک کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کے استعمال میں چونکہ چند خرابیاں ہیں؛ مثلاً: ۱-اس کی وجہ سے پیشانی کا چھپ جانا جو کہ مستقل ایک مکروہ عمل ہے۔ ۲- اس کا زائد از ضرورت ہونا۔ ۳- ممکن ہے کہ اس کے لگانے سے چہرہ بدنما نعلوم ہوتا ہو جب کہ نماز میں اچھی حالت میں رہنا مستحسن ہے وغیرہ؛ اس لیے نماز وغیرہ میں ایسے ماسک کے استعمال سے حتی الامکان احتیاط کی جائے، اور اگر نماز کی حالت میں ماسک لگانا ضروری ہو تو صرف وہی ماسک استعمال کیا جائے جس سے صرف منہ اور ناک ڈھک جائے۔

    لأن الضرورة تتقدر بقدرہا۔ (قولہ یکرہ اشتمال الصماء) لنہیہ - علیہ الصلاة والسلام - عنہا، وہی أن یأخذ بثوبہ فیخلل بہ جسدہ کلہ من رأسہ إلی قدمہ ولا یرفع جانبا یخرج یدہ منہ؛ سمی بہ لعدم منفذ یخرج منہ یدہ کالصخرة الصماء وقیل أن یشتمل بثوب واحد لیس علیہ إزار، وہو اشتمال الیہود زیلعی. وظاہر التعلیل بالنہی أن الکراہة تحریمیة کما مر فی نظائرہ (قولہ والاعتجار) لنہی النبی - صلی اللہ علیہ وسلم - عنہ، وہو شد الرأس، أو تکویر عمامتہ علی رأسہ وترک وسطہ مکشوفا وقیل أن یتنقب بعمامتہ فیغطی أنفہ إما للحر أو للبرد أو للتکبر إمداد، وکراہتہ تحریمیة أیضا لما مر (قولہ والتلثم) وہو تغطیة الأنف والفم فی الصلاة لأنہ یشبہ فعل المجوس حال عبادتہم النیران زیلعی. ونقل ط عن أبی السعود أنہا تحریمیة (قولہ والتنخم) ہو إخراج النخامة بالنفس الشدید لغیر عذر. وحکمہ کالتنحنح فی تفصیلہ کما فی شرح المنیة أی فإن کان بلا عذر․ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) ۱/۶۵۲)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند