• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 59994

    عنوان: بالغ ہونے کے بعد سے اب تک جو نمازیں فوت ہوئیں، اس پر ان سب کی قضا واجب ہے

    سوال: میرا ایک دوست ہے جو ۲۵ سال کا ہے، اب اس نے نماز شروع کردی ہے ، وہ اپنی پچھلی زندگی کی قضاء نمازوں کے بارے میں فکر مند ہے، کسی نے اسے کہا کہ پچھلی زندگی کی نمازوں کو پوری کرنے کے لیے نماز عمری کا سہارا لے ، ایک اور صاحب نے اس سے کہا ہے کہ حدیث اور قرآن میں نماز عمری کی کوئی حدیث نہیں ہے بلکہ آپ سچے دل سے اللہ سے معافی مانگو کیوں کہ یہ اللہ کا حق ہے اور اللہ معاف کردے گا اور نماز عمری پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ، میرا دوست پس وپیش میں ہوگیا ہے کہ وہ کیا کرے؟ براہ کرم، اس پر روشنی ڈالیں۔جزاک اللہ

    جواب نمبر: 59994

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 773-763/N=9/1436-U آپ کے دوست کی پچھلی زندگی میں بالغ ہونے کے بعد سے اب تک جو نمازیں فوت ہوئیں، اس پر ان سب کی قضا واجب ہے، صرف توبہ واستغفار کافی نہیں، پس جس نے فوت شدہ نمازیں ادا کرنے سے منع کیا اس نے غلط منع کیا اور یہ دراصل غیرمقلدین (جو گمراہ ہیں اور اہل السنة والجماعة سے خارج ہیں) کا موقف ہے جو قرآن وحدیث کی روشنی میں شاذ قول ہے اور اجماع امت کے خلاف ہے، اس پر عمل کرنا جائز نہیں (شرح مسلم للنووی ۱:۲۳۸، التمہید ۱: ۳۰۰-۳۰۲ وغیرہ)، اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ فوت شدہ نمازوں کی ادائیگی کے لیے قضائے عمری کی نیت سے بعض مخصوص دنوں میں یا راتوں میں مخصوص نماز پڑھ لینا کافی ہے، ان کی بات بھی غلط ہے؛ بلکہ فوت شدہ ہرنماز مستقل طور پر ادا کرنا ضروری ہے (دیکھئے: ردع الاخوان عن محدثات آخر جمعة رمضان للعلامة عبدا لحی اللکنوی رحمہ اللہ) اور قضا نمازیں ا دا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعد سے اب تک جتنی نمازیں فوت ہوئی ہوں ان کا ایک احتیاطی تخمینہ لگالیا جائے، پھر وہ نمازیں ایک ایک کرکے قضا کی جائیں اور ان کی نیت اس طرح کی جائے کہ میں زندگی میں پہلی یا آخری فوت شدہ فجر کی قضا ادا کرتا ہوں، اسی طرح ظہر، عصر وغیرہ میں نیت کی جائے اور جب ساری نمازیں ادا ہوجائیں تو قضا نمازیں ادا کرنا بند کردیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند