• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 59807

    عنوان: میں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ نماز میں اگر کوئی غلطی ہو جائے تو نماز کی غلطی کو کس طرح سے صحیح کیا جاسکتاہے؟ مثال کے طورپرا گر میں نے التحیات نہیں پڑھی یا کوئی سورة صحیح پڑھ نہ سکا تو کیا مجھے شروع سے نماز ادا کرنا پڑے گا؟ یا دوران نماز ہی غلطی ٹھیک ہوسکتی ہے؟

    سوال: میں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ نماز میں اگر کوئی غلطی ہو جائے تو نماز کی غلطی کو کس طرح سے صحیح کیا جاسکتاہے؟ مثال کے طورپرا گر میں نے التحیات نہیں پڑھی یا کوئی سورة صحیح پڑھ نہ سکا تو کیا مجھے شروع سے نماز ادا کرنا پڑے گا؟ یا دوران نماز ہی غلطی ٹھیک ہوسکتی ہے؟

    جواب نمبر: 59807

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 797-807/N=10/1436-U (۱) نماز میں ہونے والی غلطیاں مختلف طرح کی ہوتی ہیں اور ان سب کا حکم یکساں نہیں، اور فتوی میں تمام تفصیلات نہیں لکھی جاسکتیں، اس لیے آپ مسائل نماز کے موضوع پر کوئی مستند ومعتبر کتاب یا بہشتی زیور (مسائل نماز سے متعلق حصہ) اپنے مطالعہ میں رکھیں، ان شاء اللہ آپ آہستہ آہستہ نماز کے ا ہم وضروری مسائل سے واقف ہوجائیں گے اور نماز میں ہونے والی مختلف غلطیوں کے ا حکام سے بھی۔ (۲) اگر آپ نے پہلے یا دوسرے قعدہ میں التحیات سہواً نہیں پڑھی تو سجدہ سہو کرنے سے نماز مکمل ہوجائے گی، از سر نو نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں، البتہ اگر سلام کے بعد کوئی منافی نماز عمل کرلیا مثلاً کسی سے بات چیت کرلی یا سینہ قبلہ سے پھیرلیا تو اب وقت کے اندر نماز کا اعادہ واجب ہوگا، اگرچہ فرض سر سے اترگیا اور وقت نکل جانے کے بعد اس کا اعادہ مستحب ہوگا۔ اور رہا سورت کے متعلق آپ کا سوال تو سورت صحیح نہ پڑھ سکنے کی وضاحت کرکے سوال کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند