• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 59604

    عنوان: اگر نماز سے دھیان ہٹ جائے پھر واپس نماز میں دھیان لگ جائے تو پورا پورا ثواب ملتاہے یا کم ہوجاتاہے؟

    سوال: (۱) اگر نماز سے دھیان ہٹ جائے پھر واپس نماز میں دھیان لگ جائے تو پورا پورا ثواب ملتاہے یا کم ہوجاتاہے؟ (۲) نماز میں اعمال کثیر نہیں ہونا چاہئے ، کیا مطلب ہے؟نماز فاسد ہوجاتی ہے۔

    جواب نمبر: 59604

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 455-455/Sd=8/1436-U (۱) خشوع وخضوع یعنی ساری توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف رکھنا قلبی اور جسمانی دونوں اعتبار سے پوری نماز میں مطلوب ہے، جتنی زیادہ توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہوگی، اتنی ہی نماز کامل ہوگی، اور بغیر قصد وارادے کے اگر نماز میں دھیان ہٹ جائے؛ لیکن تنبّہ کے بعد توجہ کو اللہ کے لیے خالص کرلیا جائے تو امید ہے کہ ان شاء اللہ ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (۲) نماز میں عمل کثیر کا مطلب ایسی حرکت کرنا ہے کہ دور سے دیکھنے والا یہ سمجھے کہ یہ شخص نماز میں نہیں ہے، اس طرح کی حرکت سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ ویفسدہا العمل لا القلیل، والفاصل بینہما أن الکیر ہ و الذي لا یشک الناظر لفاعلہ أنہ لیس في الصلاة، وإن اشتبہ فہو قلیل علی الأصح (مراقي الفلاح) وقال الطحطاوي: کذا في التبیین وہو قول العامة وہو المختار وہو الصواب کما في المضمرات (طحطاوي علی مراقي الفلاح، ص: ۱۷۷)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند