• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 59384

    عنوان: نماز میں دوسری رکعت میں تشہد پر بیٹھنے کی بجانے قیام کیلیے کھڑے ہو گئے کیااس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے؟

    سوال: امام صاحب نے عشاء کی نماز میں دوسری رکعت میں تشہد پر بیٹھنے کی بجانے قیام کیلیے کھڑے ہو گئے ، جس پر ایک مقتدی نے ان کوفتحہ دی جس پرامام صاحب جو سیدھے کرے تھے واپس قاعدہ پر آگئے ، ایک مقتدی نے آواز دی کہ نماز فاسد ہوگئی ، (کہ امام صاحب نے فرض کو واجب کیلیے چھوڑا )، اس پر ایک اور مقتدی نے نماز کے بعد کہا کہ اگر امام صاحب صرف سجدہ سہوا کرتے تو نماز ہوجاتی، اس عمل سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ میرا سوال یہ ہے کے کیا اس طرح سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ؟ مہربانی فرما کر رہنمایی فرمائیں۔جزاک اللہ

    جواب نمبر: 59384

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 420-420/Sd=8/1436-U قعدہٴ اولی میں بیٹھنے کے بجائے مکمل کھڑے ہونے کے بعد واپس تشہد کے لیے بیٹھنے سے نماز فاسئد نہیں ہوتی ہے، یہی قول راجح اور مفتی ہے، ایسی صورت میں سجدہٴ سہو کرنے سے شرعاً نماز صحیح ہوجائے گی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جس مقتدی نے یہ کہا کہ امام صاحب کے سجدہٴ سہو کرنے سے نماز ہوجاتی ؛ اس کی بات صحیح ہے۔ قال الحصکفي: سہا عن القعود الأول من الفرض- ثم تذکّرہ عاد إلیہ وتشہَّد ولا سہو علیہ في الأصح ما لم یستقم قائمًا - وإن استقام قائمًا لا یعود لاشتغالہ بفر ض القیام وسَجد للسہو لترک الواجب فلو عاد إلی القعود بعد ذلک تفسد صلاتہ لرفض الفرض لما لیس بفرض- وقیل: لا تفسد لکنہ یکون مسیئًا ویسجد لتأخیر الواجب وہو الأشبہ کما حققہ الکمال وہو الحق، بحر- قال ابن عابدین: قولہ: کما حققہ الکمال، أي بما حاصلہ أن ذلک وإن کان لا یحل لکنہ بالصحة لا یخل لما عرف أن زیادة ما دون رکعة لا یفسد (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۸۳+-۸۴، کتاب الصلاة، باب سجود السہو، دار الفکر، بیروت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند