• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 59145

    عنوان: چار مہینے سے میری ٹانگ میں درد ہے، میں رکوع کے بعد کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتاہوں، قیام(قرأت اور رکوع ) میں کھڑا ہوجاتاہوں، رکوع کے بعد میں کرسی پر بیٹھتاہوں اور سجدہ کرتاہوں اور جلسہ میں بیٹھتا ہوں اوردوسرے سجدہ کے بعد میں دوبارہ کھڑا ہوجاتاہوں اور اس طرح سے میں نماز پوری کرتاہوں۔

    سوال: چار مہینے سے میری ٹانگ میں درد ہے، میں رکوع کے بعد کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتاہوں، قیام(قرأت اور رکوع ) میں کھڑا ہوجاتاہوں، رکوع کے بعد میں کرسی پر بیٹھتاہوں اور سجدہ کرتاہوں اور جلسہ میں بیٹھتا ہوں اوردوسرے سجدہ کے بعد میں دوبارہ کھڑا ہوجاتاہوں اور اس طرح سے میں نماز پوری کرتاہوں۔ ہمارے شہر میں کچھ عرصہ پہلے کسی نے اس کے خلاف فتوی چپکایا کہ پوری نماز میں بیٹھا جائے اور قرأت کے وقت بھی کھڑا نہیں ہونا چاہئے۔ میں ایسا اس لیے کرتاہوں کہ کھڑے ہونے میں مجھے کوئی پریشانی ہوتی ہے چاہے جتنا ٹائم لگے، صرف بیٹھنے میں مجھے پریشانی ہوتی ہے۔ براہ کرم، اس سلسلے میں میری رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 59145

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 435-435/Sd=8/1436-U صورت مسئولہ میں اگر آپ بیماری کی وجہ سے زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہیں، تو شرعاً آپ سے قیام ساقط ہوگیا، ایسی صورت میں آپ کے لیے کرسی پر بیٹھنے کے بجائے زمین ہی پر خواہ کسی بھی ہیئت میں ہو بیٹھ کر اشارے سے رکوع اور سجدہ کرنا کافی ہے، اس صورت میں کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کے مقابلے میں بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنا اولی ہے اور زمین پر بیٹھنے کے بجائے کرسی کا استعمال کراہت سے خالی نہیں؛ البتہ اگر زمین پر بیٹھنا دشوار ہو تو کرسی پر نماز پڑھنے میں مضائقہ نہیں۔ من تَعذَّر علیہ القیام لمرض أو خاف زیادتہ أو وجد لقیامہ ألمًا شدیدًا- صلی قاعدًا- کیف شاء- وإن تعذرا لیس تعذرہما شرطًا؛ بل تعذر السجود کاف لا القیام أو قاعدًا؛ لأن رکنیة القیام للتوصلی إلی السجود فلا یجب دونہ- وإن تعذرا لا القیام، أو قاعدًا وہو أفضل من الإیماء قائمًا لقربہ من الأرض․ (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۵۶۶- ۵۶۸، زکریا، دیوبند۔ نوٹ: کرسی پر نماز پڑھنے سے متعلق مفصل ومدلل فتوی ”چند اہم عصری مسائل“ نامی کتاب میں طبع ہوچکا ہے، یہ کتاب دارالعلوم کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ ملاحظہ فرمالیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند