• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 58622

    عنوان: نماز کے باریک مسئلے جاننے کے لیے بہترین کتابیں بتائیں

    سوال: اگر نماز میں تین خیال آجائے تو نماز نہیں ہوتی ہے؟ (۱) دنیا کا خیال ؟ (۲) کسی عورت کا خیال (محرم یا غیر محرم) (۳) شہوانی خیال۔ (۲) نماز کے باریک مسئلے جاننے کے لیے بہترین کتابیں بتائیں۔ (۳) نماز کے بعد تین بار استغفار کیوں پڑھنا چاہئے؟

    جواب نمبر: 58622

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 345-345/Sd=7/1436-U (۱) قرآن وحدیث میں نماز کو خشوع وخضوع سے پڑھنے کی بہت تاکید آئی ہے، یعنی نماز میں سارے خیالات وافکار سے دل کو ہٹاکر صرف ایک اللہ جل شانہ کی طرف متوجہ رہنا چاہیے، فقہائے کرام نے خشوع کو اگرچہ پوری نماز میں شرط قرار نہیں دیا ہے؛ لیکن اس کو نماز کی روح ضرور بتلایا ہے اور نماز کے کسی ایک جزء میں تو خشوع کا پایا جانا ضروری ہے؛ لہٰذا اگر نماز میں دنیا یا عورت یا کوئی شہوانی خیال آجائے، تو اس کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوگی؛ لیکن جہاں تک ممکن ہو اس طرح کے خیالات کو دفع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (۲) اس کے لیے آپ بہشتی زیور حصہ دوم کا مطالعہ کریں۔ (۳) عمل کے بعد استغفار کرنا اللہ کو بہت پسندیدہ ہے، اس میں بندگی کا اظہار ہے، گویا اِنسان عمل کرنے کے بعد اللہ کی بارگاہ میں اس بات پر معافی طلب کررہا ہے کہ اس کی شایانِ شان جیسا عمل کرنا چاہیے تھا، ویسا نہیں ہوپایا، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی معمول تھا کہ آپ نماز کے بعد تین مرتبہ استغفار کرتے تھے۔ قال اللہ تعالی: وَاسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّھَا لَکَبِیرَةٌ إِلَّا عَلَی الْخَاشِعِینَ (البقرة) قاب ابن عابدین: وفي شرح المقدمة الکیدانیة للعلامة القہستاني: یجب حضور القلب عند التحریمة، فلو اشتغل قلبہ بتفکر مسئلةٍ مثلاً في أثناء الأرکان فلا تستحب الإعادة، وقال البقالي: لم ینقص أجرہ إلا إذا قصر، وقیل یلزم في کل رکن ولا یوٴاخذ بالسہو؛ لأنہ معفو عنہ؛ لکنہ یستحق ثوابًا کما في المنیة، ولم یعتبر قول من قال: لا قیمة لصلا ة من لم یکن قلبہ فیہا معہ، ولأنہ لم یذکر الفقہاء في نواقض الصلاة (رد المحتار: ۲/۹۴، معارف القرآن: ۱/۱۵۲۳-۱۵۶) وعن ثوبان رضي اللہ عنہ قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا انصرف عن صلاتہ، استغفر ثلاثا، وقال: اللہم أنت السلام ومنک السلام، تبارکتَ ذا الجلال والإکرام، قال الولید: قلتُ للأوزاعي: کیف الاستغفار؟ قال: یقول: أستغر اللہ، أستغفر اللہ، أستغفر اللہ․ (مسلم)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند