• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 58157

    عنوان: كیا نماز پڑھنے سے رزق كی تنگی دور ہوتی ہے؟

    سوال: (۱) نماز کے فضائل میں کیا یہ ہے کہ ” رزق کی تنگی دور کردی جائے “؟ براہ کرم، حوالہ کے ساتھ جواب دیں، کیوں کہ ہم یہ فضائل میں سن چکے ہیں۔ (۲) ہم سے ایک نے بحث کرلی کہ اگر یہ سچ ہے تو جو نمازی غریب ہیں، ان کی تنگی دور کیوں نہیں ہوتی ، وہ غریب ہی رہتے ہیں زیادہ تر ؟ جو دیکھنے میں آاتاہے؟براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 58157

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 706-700/L=6/1436-U (۱) (۲) اس مضمون کا ثبوت متعدد روایات سے ہے، نیز اس کی تائید قرآن سے بھی ہوتی ہے، حدیث شریف میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر تنگی ہوتی تو آپ ان کو نماز کا حکم فرماتے اور یہ آیت تلاوت فرماتے ”وَأْمُرْ أَھْلَکَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا لَا نَسْأَلُکَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُکَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَی“ ”اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کیجیے اور خود بھی اس کا اہتمام کرتے رہیے، ہم آپ سے روزی کموانا نہیں چاہتے روزی تو ہم دیں گے اور بہترین انجام پر ہیزگاری ہی کا ہے“۔ اسی طرح دوسری آیت میں ہے: ”وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِي فَإِنَّ لَھُ مَعِیشَةً ضَنْکًا“ ”جو ہمارے ذکر سے منھ موڑے گا تو اس کو بڑی تنگ زندگی ملے گی“ اس سے پتہ چلا کہ جو لوگ ذکر کریں گے ان سے رزق کی تنگی دور ہوجائے گی، اب اس پر اشکال یہ ہوتا ہے جو آپ کو بھی ہوا ہے کہ بالعموم ایسے لوگ غریب ہوتے ہیں تو اس میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہاں غنا سے قلب کا غنا مراد ہے، یعنی ایسے لوگ رزق کی طرف سے بے پروا ہوتے ہیں، ان کو فقر کا خوف نہیں ہوتا اس کے برخلاف جو بظاہر مال دار نظر آتے ہیں ان کو ہمیشہ فقر کا خوف دامن گیر رہتا ہے، یہی وہ ہے کہ وہ اکثر مختلف قسم کے قرضوں میں پھنسے رہتے ہیں۔ ایک حدیث اس کی صراحت اس طرح آئی ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن اللہ یقول: ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَکَ غِنًی وَأَسُدَّ فَقْرَکَ، وَإِن لَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ یَدَیْکَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَکَ․ ”یعنی اے ابن آدم اپنے کو میری عبادت کے لیے فارغ کر میں تیرے سینے کو غنا سے بھردوں گا اور تیرے فقر کو زائد کردوں گا، اور اگر تونے ایسا نہیں کیا تو میں تیرے ہاتھ کو مشغول کردوں گا اور تیرے فقر کو زائل نہ کروں گا“۔ حاصل بحث یہ ہے کہ دین دار لوگ فقر سے خوف زدہ نہیں ہوتے ہیں نیز ان کی غیب سے مدد بھی ہوتی ہے، اس کے برخلاف مالدار دنیار دار مستقل مشغول رہتے ہیں اور ہمیشہ ان کو فقر کا خوف دامن گیر رہتا ہے، دل ان کا غنی نہیں ہوتا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند