• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 57275

    عنوان: فجر میں اگر وقت تنگ ہو تو كیا سنت چھوڑی جاسكتی ہے؟

    سوال: آج صبح جب میں نماز فجر کی تیاری کر کے مسجد میں پہنچا تو اس وقت 7 بج کر 9 منٹ ہوچکے تھے ۔ جبکہ حنفی کیلنڈر کے مطابق آج طلوع آفتاب کا وقت 7 بج کر 13 منٹ پر ہے ۔ اس صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے فوراََ صرف ۲ فرض ادا کرلیئے ۔ اور سورج طلوع ہونے کے بعد سُنتیں ادا کر لیں۔ آپ سے یہ گزارش ہے کہ میری رہنمائی فرمائیں کہ میں نے یہ صحیح کیا ہے یا مجھے ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے تھا۔ آئیندہ عمل کے لیئے آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔ جزاکم اللھ تبارک و تعالٰی۔

    جواب نمبر: 57275

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 251-201/D=3/1436-U جب وقت اس قدر تنگ ہوگیا تھا کہ فرض سے پہلے سنت میں مشغول ہونے کی صورت میں فرض نماز وقت کے اندر ادا نہ ہوپاتی تو آپ نے فرض کے لیے جو صورت اختیار کی وہ درست ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے یہاں سنتوں کی قضا نہیں ہوتی لہٰذا سورج نکلنے کے بعد سنت کو قضا کے طور پر نہیں البتہ نفل کے طور پر پڑھنا جائز ہے بلکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک سنت فجر کی قضا طلوع آفتاب کے بعد ہوسکتی ہے،اس لیے سنت کے سلسلہ میں آپ نے جو طریقہ اختیار کیا اس کی گنجائش ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند