• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 56029

    عنوان: نماز میں اپنی زبان میں دعا پڑھنا؟

    سوال: میں دو مہینے تک فرض، سنت اور دوسری نماز(نفل) میں رکوع اور سجود میں اپنی زبان میں پڑھتا رہا: ” یا اللہ مجھ کو اور میری آل کو دین کا اور امت کا خادم بنادے“ یا اللہ دعوت والے کام کو مرتے دم تک کرنے کی توفیق عطا فرما، یااللہ دنیا کو میرے لیے فراخ فرما ، پھر مجھے اس سے بچا، یا اللہ اپنی رحمت خاص سے ہم کو نواز دے“۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے لئے یہ تمام نمازیں دہرانا ضروری ہے؟

    جواب نمبر: 56029

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 108-108/Sn=12/1435-U نمازوں کو دہرانا تو ضروری نہیں؛ لیکن ایسا نہ کرنا چاہیے تھا، فقہاء نے نماز کے اندر عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں دعا کو مکروہ لکھا ہے۔ ودعا بالعربیة ، وحرم بغیرہا نہر ․․․․ وظاہر التعلیل أن الدعاء بغیر العربیة خلاف الأولی ، وأن الکراہة فیہ تنزیہیة․ ہذا ، وقد تقدم أول الفصل أن الإمام رجع إلی قولہما بعدم جواز الصلاة بالقراء ة بالفارسیة إلا عند العجز عن العربیة․ وأما صحة الشروع بالفارسیة وکذا جمیع أذکار الصلاة فہي علی الخلاف ؛ فعندہ تصح الصلاة بہا مطلقا خلافا لہما الخ․ (در مع الشامي ۲/۲۳۴، مطلب في الدعاء بغیر العربیة، ط: زکریا) وہکذا في خیر الفتاوی (۲/ ۴۵۹ ط: امدادیہ پاکستان)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند