• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 55489

    عنوان: گرمی کے موسم میں نماز شروع کرنے سے پہلے اپنے کرتے کی آستینوں کو تھوڑا گرمی کی وجہ سے اوپر کرلیے جائیں یا او پر کے ایک بٹن کو کھول لیا جائے تو کیسا رہے گا؟ اگر پینٹ شرٹ پہن کر نماز پڑھی جائے تو نماز درست ہوگی؟

    سوال: گرمی کے موسم میں نماز شروع کرنے سے پہلے اپنے کرتے کی آستینوں کو تھوڑا گرمی کی وجہ سے اوپر کرلیے جائیں یا او پر کے ایک بٹن کو کھول لیا جائے تو کیسا رہے گا؟ اگر پینٹ شرٹ پہن کر نماز پڑھی جائے تو نماز درست ہوگی؟

    جواب نمبر: 55489

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 60-60/Sd=11/1435-U (۱) اگر آستین اتنی اوپر چڑھائی کہ کہنیاں بھی کھل جائیں، تو ایسی ہیئت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے اور اگر کہنیاں ڈھکی رہیں، آستین کا صرف تھوڑا سا حصہ اوپر چڑھایا، تو ایسی صورت میں نماز پڑھنا بعض فقہاء کے نزدیک جائز ہے جب کہ دیگر بہت سے فقہاء اس ہیئت میں بھی نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ پوری آستین کے ساتھ نماز پڑھی جائے، نماز کو ادب ووقار سے کے ساتھ پڑھنا شرعاً مطلوب ہے۔ (۲) اوپر کے بٹن کھول کر نماز پڑھنا بلاکراہت جائز ہے۔ (۳) ایسے لباس میں نماز پڑھنا مکروہ ہے؛ بلکہ اس طرح کے لباس میں اگر اعضائے مستورہ کا حجم بھی نظر آئے تو کراہت میں اور بھی شدت آجائے گی۔ قال الحصکفي: وکرہ کفہ أي رفعہ ولو لتراب کمشمرکم أو ذیل - قال ابن عابدین: وقید الکراہةَ في الخلاصة والمنیة بأن یکون رافعًا کمیہ إلی المرفقین وظاہرہ أنہ لا یکرہ إلی ما دونہا، قال في البحر: والظہر الأطلاقُ لصدق کف ا لثوب علی الکل ونحوہ في الحلیة ، وکذا قال في شرح المنیة الکبیر: إن التقیید بالمرفقین اتفاقي الخ (الدر المختار مع رد المحتار: ۴/۱۳۷-۱۳۸، کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیہا، ط: دار الثقافة والتراث، دمشق، سوریہ) وعن معاویة بن قرة عن أبیہ قال: أتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في رھط من مزینة لنبایعہ وإن قمیصہ لمطلق أو قال: زر قمیصہ مطلق (شمائل الترمذي، ص: ۵، باب ما جاء في لباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند