• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 54914

    عنوان: نماز میں ناف كے نیچے ہاتھ باندھنا

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اکثر نماز میں دیکھا ہے کہ کچھ لوگ ہر رکعت میں ہاتھ اٹھا کر آہستہ سے اللہ اکبر کہتے ہیں اور نماز میں ناف کے کافی اوپر ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور تیز آواز میں آمین کہتے ہیں۔ میں جاننا چاہتاہوں کہ کیا ان کے تینوں اعمال احادیث سے ثابت اور درست ہیں؟

    جواب نمبر: 54914

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1284-1281/N=11/1435-U احناف کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ ہررکعت کے شروع میں یا دیگر بعض مواقع پر رفع یدین کی روایات ابتدائے اسلام پر محمول ہیں، اخیر میں وہ منسوخ ہوگئی تھیں لہٰذا ان پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ اور سینہ پر ہاتھ باندھنے کی کوئی بھی مرفوع روایت صحیح نہیں ہے، جب کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی روایات متعدد ہیں اور ان میں بعض صحیح ومضبوط ہیں اور احناف کے نزدیک آہستہ آمین کہنے کی روایت راجح ہے؛ اس لیے آہستہ آواز سے آمین کہنی چاہیے، زور سے آمین کہنا خلاف افضل ہے (تفصیل اعلاء السنن اور معارف السنن وغیرہ میں ہے) ، آپ اپنے یہاں (لکھنوٴ) میں جن لوگوں کو یہ تین اعمال کرتے دیکھ رہے ہیں وہ غیر مقلد معلوم ہوتے ہیں، یہ لوگ گمراہ ہیں اور اہل السنة والجماعة سے خارج ہیں، آپ ان سے ہوشیار رہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند