• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 5491

    عنوان:

    میرا اصل تعلق گلگت سے ہے، میرا گھرانہ عرصہ ۲۰/ سال سے پشاور میں مقیم ہے۔ اور میں پنڈی کے کالج میں پڑھتا ہوں اور ہوسٹل میں رہتا ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر میں پشاور ایک ہفتہ کے لیے جاؤں تو وہاں مقیم کی نماز پڑھوں گا یا مسافر والی (قصر نماز) پڑھوں گا؟

    سوال:

    میرا اصل تعلق گلگت سے ہے، میرا گھرانہ عرصہ ۲۰/ سال سے پشاور میں مقیم ہے۔ اور میں پنڈی کے کالج میں پڑھتا ہوں اور ہوسٹل میں رہتا ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر میں پشاور ایک ہفتہ کے لیے جاؤں تو وہاں مقیم کی نماز پڑھوں گا یا مسافر والی (قصر نماز) پڑھوں گا؟

    جواب نمبر: 549101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 157/ م= 157/ م

     

    اگر آپ اور آپ کا پورا گھرانہ پشاور میں ساز وسامان کے ساتھ وطن بنانے کی نیت سے رہائش پذیر ہوگئے تھے پھر آپ وہاں سے تعلیم کے لیے پنڈی کالج آگئے تو پشاور آپ کاوطن اصلی کہلائے گا، وہاں آپ جب بھی جائیں گے خواہ تھوڑی مدت ہی کے لیے ہو تو آپ پوری نماز پڑھیں گے، قصر کرنا درست نہیں الوطن الأصلي ھو موطن ولایة أو تأھلہ أو توطنہ وفي رد المحتار: أو توطنہ أي عزم علی القرار فیہ وعدم الارتحال وإن لم یتأھل (الشامي: ج۲ ص۶۱۴ زکریا دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند