• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 52848

    عنوان: نماز میں اختتامی سلام پھیرتے وقت میں نے سنا ہے کہ دائیں طرف سلام پھیر کر چہرہ سیدھاکریں اورایک ساعت کے لیے رک کر بائیں طرف سلام بھیریں، کیا اس کی شریعت میں کوئی دلیل ہے اور یہ آداب میں سے ہے یا لازمی ہے یا اس کی کوئی ضرورت نہیں؟

    سوال: نماز میں اختتامی سلام پھیرتے وقت میں نے سنا ہے کہ دائیں طرف سلام پھیر کر چہرہ سیدھاکریں اورایک ساعت کے لیے رک کر بائیں طرف سلام بھیریں، کیا اس کی شریعت میں کوئی دلیل ہے اور یہ آداب میں سے ہے یا لازمی ہے یا اس کی کوئی ضرورت نہیں؟

    جواب نمبر: 52848

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 803-813/N=7/1435-U نماز میں دونوں جانب سلام پھیرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ سلام کا آغاز اس وقت کیا جائے جب چہرہ قبلہ کی طرف ہو اور اختتام چہرہ دائیں جانب یا بائیں پھیر کر کیا جائے، الکوکب الدري (۱: ۲۸۹، ۲۹۰ مطبوعہ مطبعہ ندوة العلماء لکناوٴ) میں ہے: ”کان یسلّم تسلیمة واحدة“ أي: یأخذ فیہا من تلقاء وجہہ ویختمہا إذا مال وجہہ إلی الیمین، کذا الحکم في تسلیم الیسار اھ اور ظاہر ہے کہ جب پہلے سلام کا اختتام اس وقت ہوا جب چہرہ دائیں جانب ہو اور دوسرے سلام کا آغاز اس حالت میں کرنا ہے کہ چہرہ سامنے قبلہ کی جانب ہو تو لامحالہ دونوں سلاموں میں چند سکنڈ کا وقفہ ہوگا اور یہ فصل کے لیے کافی ہے؛ لہٰذا دوسرے سلام کے لیے چہرہ دائیں جانب سے سامنے قبلہ کی طرف لانے کے بعد مزید توقف کی ضرورت نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند