• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 52533

    عنوان: ظہر کی فرض نماز میں ہمارے امام صاحب دوسری رکعت میں نہیں بیٹھے اور بالکل سیدھا کھڑے ہوگئے، اس کے بعد ایک مقتدی نے ان کو لقمہ دیا اور امام صاحب فوراً بیٹھ گئے ، سجدہ سہو کیا اور پھر فوراً کھڑے ہوگئے ، پھر انہوں نے بقیہ دو رکعت پوری کی اور دوبارہ سجدہ سہو کیا اور پھر نمازپوری کرلی ۔ کیا آپ اس بارے میں کوئی رائے دے سکتے ہیں؟ کیا نماز دہرانی ہوگی یا نہیں؟

    سوال: ظہر کی فرض نماز میں ہمارے امام صاحب دوسری رکعت میں نہیں بیٹھے اور بالکل سیدھا کھڑے ہوگئے، اس کے بعد ایک مقتدی نے ان کو لقمہ دیا اور امام صاحب فوراً بیٹھ گئے ، سجدہ سہو کیا اور پھر فوراً کھڑے ہوگئے ، پھر انہوں نے بقیہ دو رکعت پوری کی اور دوبارہ سجدہ سہو کیا اور پھر نمازپوری کرلی ۔ کیا آپ اس بارے میں کوئی رائے دے سکتے ہیں؟ کیا نماز دہرانی ہوگی یا نہیں؟

    جواب نمبر: 52533

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1111-772/L=10/1435-U مذکورہ بالا صورت میں نماز درست ہوگئی، اعادہ کی ضرورت نہیں؛ البتہ دوسری رکعت پر قعدہ کیے بغیر جب امام صاحب کھڑے ہوگئے تھے تو ان کو بیٹھنا نہیں چاہیے تھا اور جب بیٹھ گئے تھے تو اسی رکعت میں سجدہ سہو نہیں کرنا چاہیے تھا یہ دو بڑی غلطی امام صاحب نے کی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند