• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 50806

    عنوان: اگر کسی کی صلاة الاشراق چھوٹ جائے تو کیا وہ ایک نیت ہی میں چاشت کے ساتھ اشراق کو شامل کرسکتاہے؟

    سوال: اگر کسی کی صلاة الاشراق چھوٹ جائے تو کیا وہ ایک نیت ہی میں چاشت کے ساتھ اشراق کو شامل کرسکتاہے؟

    جواب نمبر: 50806

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 405-414/N=4/1435-U نماز اشراق اور نماز چاشت کے متعلق علما کا اختلاف ہے کہ یہ دونوں ابتدائی اور انتہائی وقت کے لحاظ سے ایک نماز کے دو نام ہیں، یعنی اگر یہ نماز شروع وقت میں پڑھی جائے تو نماز اشراق کہتے ہیں اور اگر آخر وقت میں پڑھی جائے تو نماز چاشت کہتے ہیں، یا دونوں ایک نمازیں ہیں کذا في أوجز المسالک (۳:۲۲۲، ۲۲۳،ط مرکز الشیخ أبی الحسن الندوی للبحوث والدراسات الإسلامیة مظفرفور اعظم جراہ) اور جن علما کے نزدیک یہ دو الگ الگ نمازیں ہیں ان کے یہاں دونوں بذات خود مقصود ہیں اس لیے ان کے نزدیک ایک نماز میں دونوں کی نیت نہیں ہوسکتی اور جن کے نزدیک یہ ایک نماز کے دو نام ہیں ان کے نزدیک جمع کی نیت کی ضرورت نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند