• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 50566

    عنوان: اگر کسی امام کے بارے میں دل میں برائی ہو ، یا اگر نماز پڑھاتے وقت اس کے بارے میں برائی آرہی ہو تب اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟

    سوال: میرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی امام کے بارے میں دل میں برائی ہو ، یا اگر نماز پڑھاتے وقت اس کے بارے میں برائی آرہی ہو تب اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟ دل میں یہ برائی ہمارے امام صاحب کے غیر شرعی چیزوں کو دیکھنے سے ہوئی ہے، میں ہی اکیلا نہیں بلکہ محلے کے تمام تقریباً لوگ ان سے ناراض ہیں، اور مسجد میں نماز بھی نہیں پڑھ رہ رہے ہیں جب کہ یہ شہر کی جامع مسجد میں شمار ہوتاہے، اس مسجد کے علاوہ دوسری مسجد میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟ براہ کرم، تفصیل سے جواب دیں۔

    جواب نمبر: 50566

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 273-243/D=3/1435-U جماعت ترک کرکے اکیلے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، اگر واقعی غیر شرعی باتیں امام صاحب میں ہیں تو نرمی خیرخواہی کے ساتھ انھیں متوجہ کردیا جائے، ان شاء اللہ وہ اصلاح کرلیں گے اگر نہیں کرتے تو بھی آپ لوگوں کی نماز ان کے پیچھے جائز ہوجائے گی، گناہ انھیں ہوگا۔ ہاں اگر کسی مقتدی کے دل میں امام کی طرف سے زیادہ ناگواری ہو اور شرعی بنیاد پر ہو تو وہ دوسری مسجد میں نماز پڑھ سکتا ہے لیکن مسجد کی جماعت کرنا جائز نہیں، جو لوگ ایسا کررہے ہیں وہ سخت گنہ گار ہوں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند