• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 50409

    عنوان: اقامت ہوتے وقت نماز کے لیے کب کھڑے ہوں؟

    سوال: اقامت ہوتے وقت نماز کے لیے کب کھڑے ہوں؟

    جواب نمبر: 50409

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 375-67/B=3/1435-U صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عمل اور جمہور امت کا تعامل یہ ہی چلا آرہا ہے کہ اقامت، شروع ہوتے ہی کھڑے ہونا چاہیے تاکہ صفیں سیدھی ہوتی چلی جائیں نہ کہ حی علی الصلاة پر اورجواہرالفقہ ج۲ ص۴۲۹ میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمة اللہ علیہ نے فتح الباری کی عبارت مصنف عبدا لرزاق کے حوالہ سے نقل فرمائی ہے کہ ”جس وقت موٴذن اللہ اکبر ہتا تھا لوگ (صحابہٴ کرام) نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے تک صفیں درست ہوجاتی تھیں“ جنانچہ فتح الباری میں ہے: ویشہد لہ ما رواہ عبد الرزاق عن ابن جریج عن ابن شہاب: أن الناس کانوا ساعة یقول الموٴذن اللہ أکبر یقومون إلی الصلاة فلا یأتي النبي صلی اللہ علیہ وسلم مقامہ حتی تعتدل الصفوف (فتح الباري ج۲ ص۱۰۰) اور امداد الفتاوی ج۱ ص۱۸۴ کے حاشیہ میں محدث کبیر حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری مدظلہ نے لکھا ہے کہ ”فقہاء نے یہ جو لکھا ہے کہ ”امام اور مقتدی حی الصلاة پر کھڑے ہوں“ تو یہ منجملہ آداب ہے، واجب یا سنت نہیں ہے، جس طرح فقہاء نے لکھا ہے کہ امام قدقامت الصلاة پر نماز شروع کرے، لیکن فقہاء نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ اصح اعدل اور افضل تو یہ ہے کہ تکبیر پوری ہونے پر امام کو نماز شروع کرنا چاہیے تاکہ تکبیر کہنے والا امام کے ساتھ نماز شروع کرسکے تو جس طرح تکبیر کہنے والے کی رعایت کرتے ہوئے فقہاء نے ایک ادب ”قدقامت الصلاة پر نماز شروع کرنے“ کو ترک کردیا ہے اسی طرح تسویہٴ صفوف کی اہمیت کے پیش نظر دوسرے ادب ”حی علی الصلاة پر کھڑے ہونے“ کے خلاف حیعلتین پر قیام کی تقدیم کو راجح کہا جائے گا کیونکہ تسویہٴ صفوف کی رعایت تکبیر کہنے والے کی رعایت سے زیادہ اہم ہے“۔ تسویہٴ صفوف تو اقامت صلاة کا ایک اہم حصہ ہے، چنانچہ بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سووا صفوفکم فإن تسویة الصفوف من إقامة الصلاة“ اور صفیں اگر سیدھی ہوں اور لوگ اسکا اہتمام نہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں بھی اختلاف پیدا فرمادیتے ہیں، چنانچہ بخاری شریف ہی میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا: لتسوّنّ صفوفکم أو لیخالفنّ اللہ بین وجوہکم اور حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ صفیں سیدھی کرنے کے لیے بعض لوگوں کومتعین کردیتے تھے اورجب تک صفیں سیدھی ہونے کی خبر نہ دی جاتی اس وقت تک تکبیر تحریمہ نہیں کہتے تھے،اور ظاہر ہے کہ یہ جبھی ہوسکتا ہے کہ لوگ اقامت شروع ہوتے ہی کھڑے ہوجائیں، لہٰذا جو لوگ حی علی الصلاة ہی پر کھڑے ہونے کو واجب یا سنت سمجھتے ہیں ان کا یہ سمجھنا غلط ہے اور صحابہٴ کرام کے تعامل کے خلاف ہے۔ بدعتی لوگ اس مسئلہ پر بہت زور لگاتے ہیں اور دلیل کے طور پر حاشیہ الطحاطوی علی مراقی الفلاح کا حوالہ دیتے ہیں کہ علامہ طحطاوی نے لکھا ہے: ویفہم منہ کراہیة القیام ابتداء الإقامة والناس عنہ غافلون تو ان کا جواب یہ ہے کہ علامہ طحطاوی رحمہ اللہ نے جس طرح مراقی الفلاح پر حاشیہ لکھا ہے اسی طرح در مختار پر بھی آپ نے حاشیہ لکھا ہے اوردر مختار والا حاشیہ بعد کا ہے، مراقی الفلاح والا حاشیہ پہلے کا ہے، بعد والا قول پہلے والے قول کے لیے ناسخ بنتا ہے، لہٰذا علامہ طحطاوی رحمہ اللہ نے حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار میں لکھا ہے: قولہ: (والقیام لإمام وموٴتم إلخ) مسارعة لامتثال أمرہ والظاہر أنہ احتراز عن التأخیر لا التقدیم حتی لو قام أول الإقامة لا بأس․ لہٰذا علامہ طحطاوی کی اس عبارت سے یہ معلوم ہوا کہ جو لوگ اول اقامت میں کھڑے نہیں ہوئے وہ حی علی الصلاة تک کھڑے ہوجائیں اس کے بعد تاخیر کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند