• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 49947

    عنوان: مؤذن كے علاوہ كسی اور كا اذان دینا

    سوال: حضرت میرا سوال میری مسجد کے متعلق ہے۔ آپ سے یہ دریافت کرنا ہے کہ (۱) اگر کسی مسجد میں موٴذن موجود ہے اور وہ اذان خود نہ دے کر کسی نابالغ بچے سے اذان دلواتا ہے تو کیا یہ درست ہے؟ (۲) اور اگر کوئی بالغ مرد اذان دینے کے لیے کہتا ہے تو اس کو روکا جاتاہے۔ کیا یہ درست ہے؟ (۳) اور اگر کوئی شخص جو حافظ قرآن یا عالم دین ہے پر فرائض کی نماز میں شریک نہیں ہوتا او راپنے حجرے میں (جو مسجد کی حد میں ہے) نماز کے وقت سوتا رہتاہے یا جماعت کی نماز یا کچھ رکعت چھوڑ دیتا ہے تو اس کے متعلق آپ کا کیا کہنا ہے۔ (۴) قرآن مجید اور حدیث شریف کی روشنی میں واضح کریں آپ کی بہت مہربانی ہوگی۔ قرآن پاک کی آیت اور حدیث کا حوالہ ضرور دیں۔ اللہ آپ پر او رسارے مسلمانوں پررحم کرے۔ آمین

    جواب نمبر: 49947

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 184-178/N=2/1435-U (۱) نابالغ سمجھ دار بچہ اگر صحیح طور پر اذان دینے پر قادر ہے تو اس کا اذان دینا جائز ہے، البتہ بالغ مرد کا اذان دینا افضل ہے، قال فی الفتاوی الہندیة (۱:۵۴،ط مکتبہ زکریادیوبند) : أذان الصبي العاقل صحیح من غیر کراہة في ظاہر الروایة ولکن أذان البالغ أفضل،․․․ ہکذا في النہایة اھ ومثلہ فيا لدر والرد (۲:۵۹ ط مکتبہ زکریا دیوبند) اور بہتر یہ ہے کہ موٴذن صاحب خود اذان دیا کریں، بلاعذر کسی دوسرے سے اذان نہ دلوایا کریں کیونکہ اہل محلہ ان کی آواز سن کر بہت جلد سمجھیں گے کہ محلہ کی مسجد میں اذان ہورہی ہے، ورنہ بعض مرتبہ انھیں غلط فہمی ہوسکتی ہے جومناسب نہیں، قال في البدائع (۱: ۳۷۳ مکتبہ زکریا دیوبند): ومنہا أي: ومن صفات الموٴذن- أن یکون مواظبا علی الأذان لأن حصول الإعلام لأہل المسجد بصوت المواظب أبلغ من حصولہ بصوت من لا عہد لہم بصوتہ فکان أفضل“ اھ (۲) اذان دینا با تنخواہ مقرر کردہ موٴذن کا حق اور اس کی ذمہ داری ہے، لہٰذا وہ دوسرے کو اذان دینے سے منع کرسکتا ہے، نیز افضل بھی یہ ہے کہ مقررہ موٴذن ہی اذان دیا کرے جیسا کہ اوپر بدائع کے حوالہ سے گذرا۔ (۳) ممکن ہے کہ یہ ان کا غیراختیاری عمل ہو کیوں کہ بعض لوگوں کی نیند غیراختیاری طور پر حد درجہ گہری ہوتی ہے، وہ از خود عام طور پر بیدار نہیں ہوپاتے ہیں اور حدیث میں ہے: ”إنہ لا تفریط في النوم، إنما التفریط في الیقظة“ (ابوداوٴد شریف: ص۶۳ مطبوعہ مکتبہ اشرفیہ دیوبند) اس لیے ایسی صورت میں حافظ صاحب یا موٴذن صاحب کو کوئی گناہ نہ ہوگا۔ اور اگر نمازیوں میں سے کوئی شخص نماز کے وقت ان کوبیدار کردیا کرے تو یہ بہتر ہے اور اجر وثواب کا باعث ہے۔ (۴) اوپر ذکر کردہ تینوں مسئلے قرآن وحدیث سے ثابت یا ان سے مستنبط ہیں، آپ تفصیل کے لیے احادیث اور فقہ کی عربی کتابوں کا مطالعہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند