• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 48343

    عنوان: کیا خواتین اور لڑکیوں کی آدھی آستینوں کی قمیص سے پڑھی ہوئی نماز قبول ہوجاتی ہے یا پوری آستینوں سے پڑھنی چاہئے؟

    سوال: کیا خواتین اور لڑکیوں کی آدھی آستینوں کی قمیص سے پڑھی ہوئی نماز قبول ہوجاتی ہے یا پوری آستینوں سے پڑھنی چاہئے؟

    جواب نمبر: 48343

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1300-1051/D=12/1434-U خواتین اور لڑکیوں کی نماز کے صحت کے لیے پورے بدن کا کپڑے سے ڈھکا ہونا شرط ہے، سوائے چہرہ، ہتھیلی اور قدم کے۔ لہٰذا نماز کی صحت کے لیے گٹوں تک آستین کا ہونا ضروری ہے یا چادر اور دوپٹہ سے گٹے تک ہاتھ چھپے رہیں تو بھی کافی ہے، لیکن اگر گٹے سے اوپر کلائی کا 1/4 (چوتھائی) حصہ کھلا رہا تو نماز صحیح نہیں ہوگی، جب نماز صحیح نہ ہوگی تو قبول بھی نہ ہوگی۔ ہاں معذور اور مفلس عورت جس کے پاس کپڑے ہی نہ ہوں جس سے بدن چھپاسکے اس کا حکم دوسرا ہے، پس خواتین اور لڑکیوں کو پوری آستین کے قمیص پہن کر نماز پڑھنا ضروری ہے، یا پھر چادر وغیرہ سے ہاتھ کو چھپاکر رکھنا ضروری ہے: قال في الدر: وللحرة جمیع بدنہا خلا الوجہ والکفین والقدمین (ج۱ ص۲۹۸ الدر مع الرد)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند